سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 206
وہی ٹھوکریں کھاتے اور ان کو اُٹھانا پڑتا۔ایک ماں جیسے بچے کو چلنا پھرنا کھانا پینا سکھاتی ہے ایک استناد جیسے بار بار غلطی کرنے والے بچے کو بالآخر صحیح تلفظ سکھا دیتا ہے اسی طرح حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت احمدیہ کو مجلس مشاورت کے آداب و اخلاق اور حکمت و فلسفہ سکھانے میں محنت کی۔اور آخری سانس نہ لیا جب تک اپنے پیچھے ایک ایسا مہذب و متمدن ادارہ مشاورت نہ چھوڑ گئے جو بلاشبہ دنیا کے تمام مشاورتی اداروں کے لئے قابل تقلید نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ابھی چند صفحات پیشتر ہی قارئین حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ۱۹۶۲ ء کی مجلس شوری کے افتتاحی خطاب میں سے بعض اقتباسات پڑھ چکے ہیں لیکن تربیت کی کمی کی وجہ سے دوسرے ہی روز جب بعض حاضرین نے بولنے میں محبت سے کام لیا تو حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :- کل میں نے سمجھایا تھا۔کہ صرف بولنے کی خواہش سے نہیں بولنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیئے کہ بولنا مفید ہے یا نہیں اور پھر بولنا چاہیے لیکن بوجہ عجلت کے جو حکمت کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے یونسی بول پڑتے ہیں۔شائد کہ اپنے ہی خیالات میں محو ہوتے ہیں دوسرے کی سنتے ہی نہیں۔اس لئے ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو پہلے بیان کر چکتے ہیں یہ ہے اسی طرح ہر مجلس مشاورت پر ایسے مواقع پیدا ہوتے رہتے کہ حضور کو نہایت حکیمانہ انداز میں احباب کو نصائح کرنی پڑتیں۔مثلاً ۱۹۲۳ء کی مجلس مشاورت کے موقع پر حضرت شیخ يعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ کے ایک سوال کا لہجہ قابل اعتراض پایا تو آپ نے فرمایا۔شیخ یعقوب علی صاحب کا لہجہ اطلاع حاصل کرنے کا نہ تھا۔یہ پارلیمنٹ نہیں ہے کہ اس میں ایک فریق کو دوسرے کے خلاف اُبھارنا ہے۔بلکہ یہ مجلس مشاورت ہے۔اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو تو اس کے متعلق سوال کیا جاسکتا ہے اعتراض نہیں کیا جاتا بعض لہجوں کا بھی اثر ہوتا ہے۔گو ان لوگوں کی نیت نہ ہو جوان کے لیجے سے ظاہر ہوتی ہے۔مگر عادت کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۲۲ ۳۲۵