سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 207

F-6 مثلاً جب یہ آیت نازل ہوئی کہ رسول کے سامنے بلند آواز سے نہ بولو تو ایک صحابی جن کی آواز بڑی تھی چپ ہو گئے اور مجلس میں آنا بند کر دیا۔کہ میں منافق ہوں میری آوانہ اونچی ہے۔مگر پھر ان کو سمجھایا گیا۔پس اگر بلند آواز سے ایسے لہجہ میں بولنے کی عادت ہو تو اپنے لہجہ اور آواز پر قابو رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے کے لئے ایک طرف سوال کرنے والوں کی نگرانی کی جاتی تھی تو دوسری طرف ناظروں کے جوابات کا محاسبہ بھی جاری رہتا تھا۔کہ قولِ سدید اور واقعات کے عین مطابق ہیں یا نہیں۔اگر کہیں کوئی ناظر غلطی کرتا تو اسے ایسے رنگ میں سمجھاتے کہ حاضرین مجلس کے لئے کسی مزید سوال یا اعتراض کی گنجائش نہ رہتی۔مثلاً مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء کے دوسرے روز سید زین العابدات ولی اللہ شاہ صاحب کے ایک جواب کو غیر تسلی بخش پا کہ آپ نے فرمایا :- ر افسوس ہے کہ شاہ صاحب نے بجائے یہ کہنے کے کہ میں اس قلیل عرصہ میں رپورٹ تیار نہیں کرسکا۔انہوں نے کام کی ہی نفی کر دی۔حالانکہ یہ اس دفتر کے نائب ناظر ہیں۔ان کے دفتر نے رپورٹ شائع کی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کوئی ریکارڈ نہیں اگر یہ صاف لفظوں میں کتنے کہ میں اس قلیل عرصہ میں یہ نہیں کر سکا تو بات کا یہ نیا پہلو نہ کلتا ہے ناظر صاحبان کی رپورٹوں پر بھی حضور ہمیشہ کڑی نظر رکھتے کہ کہیں رپورٹوں کا کوئی پیلو اسلام کے نہایت بلند اخلاقی معیار سے گرا ہوا تو نہیں۔خانصاحب مولوی فرزند علی خانصاب کی ایک رپورٹ میں ایک جید عالم کا ذکر کچھ اس رنگ میں ہوا کہ ہلکا سا طنز کا پہلو پایا جانا تھا حضور نے اس بات کو قابل اصلاح سمجھا اور فرمایا :- انسان روحانی امراض خود محسوس نہیں کر سکتا مگر تندرست سمجھنا ہے کہ بیمار ہیں یہ ہماری ہے۔رپورٹ کے متعلق مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ خانصاحب نے اپنی رپورٹ میں فقہ کی کتاب جو حافظ روشن علی صاحب نے تالیف کی ہے اس کا ذکر ایسے رنگ میں کیا ہے جس سے رپورٹ مجلس مشاورت ۴۱۹۲۳ ۲۶۰ ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ ۳۰۲