سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 201
F گفتگو کر کے اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کریں۔اگر تغیر کے متعلق مشورہ کو میں قابل قبول نہ سمجھوں گا تو اپنی ذمہ داری پر اسے رد کر دوں گا۔جب اس پر عمل کرنے کا وقت آئے اس وقت اختلافِ رائے کے اظہار کی اجازت نہ ہوگی لیکن مشورہ کے وقت ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنا مشور پیش کرتے حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا کثربے ائے سے اختلاف نمائندگان شوری کی کثرتِ رائے سے اختلاف کی پسند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔جہاں جہاں بھی حضرت خلیفة المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے کثرتِ رائے سے اختلاف کیا تو اس اختلاف کی وجہ بیان فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف اس وقت کے حاضر ممبران آپ کی رائے سے دلی طور پر مطمئن ہو گئے بلکہ آج بھی ہر معقول آدمی ان معاملات پر نظر ڈالکر یقینا اس فیصلہ تک پہنچے گا کہ آپ کا کثرت رائے کو قبول نہ کرنا نہ صرف معقول اور مناسب تھا بلکہ ایسا نہ کرنا قومی مفادات کے لئے مضر ثابت ہوتا۔کہیں ایک جگہ بھی محقق آپ کے اختلاف رائے میں آمریت کا شائبہ تک نہ پائے گا۔یہ تمام امور جماعت احمدیہ کے ریکارڈ میں موجود اور رسائل و جرائد میں شائع شدہ نہیں۔اور ہر پچسپی رکھنے والے کو دعوت فکر و نظر دے رہے ہیں۔چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔اول :- مجلس شوری میں یہ تجویز پیش تھی کہ صوبائی امیر جمعہ کے روز اگر کہیں موجود ہوں اور وہاں کا امیر مقامی کوئی اور شخص ہو تو جمعہ کے پڑھانے کا اصل حق امیر مقامی کا ہوگا۔البتہ صوبائی امیر مقامی امیر کو اطلاع دے کو حسب ضرورت جمعہ پڑھا سکے گا۔اس تجویز کے متعلق جب رائے شماری ہوئی تو اکثریت نے اس کے حق میں رائے دی۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اکثریت کے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا :- میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں اکثریت کی رائے درست نہیں ہے میرے نزدیک جب تک یہ عہد سے الگ الگ ہیں۔اس وقت تک یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جہاں پراونشل امیر ہو وہاں اُسے اپنے خیالات کے اظہار اور ان کی اشاعت کے لئے کوئی موقعہ حاصل ہونا ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء متتا