سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 194
۱۹۴ شاید کیا یقینا ایسا وقت آئے گا جب سجائے جماعتوں کے مختلف اضلاع بلکہ صوبوں سے نمائندے منتخب کرنے پڑیں گے۔کیونکہ کوئی مجلس شوری ایسی وسیع نہیں ہو سکتی کہ ہزاروں لاکھوں آدمی اس میں بلائے جاگیں جب خدا ہماری جماعت کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا تو اس وقت ضلعوں اور صوبوں بلکہ مختلف ملکوں کے نمائندے ہی لئے جائیں گے ہر جماعت سے نمائندہ نہیں لیا جا سکے گا۔پس اس پابندی پر جماعتوں کو بُرا نہیں منانا چاہیئے یہ ایک مجبوری ہے اور یہ مجبوری اب بڑھتی ہی جائے گی۔لیکن بہر حال جب تک چھوٹی جماعتوں کو اپنے نمائندے بھیجنے کا حق حاصل ہے انہیں چاہیئے کہ وہ اپنے حق سے فائدہ اٹھائیں کے موقع پر بہترین نمائندے منتخب کر کے بھیجا کریں اللہ نمائندگی کا یہ طریق اب تک جاری ہے البتہ نمائندگان کی تعداد میں مختلف حالات کے اور میں پیش نظر ترمیم ہوتی رہتی ہے۔منتخب نمائندوں کے علاوہ تمام جماعتوں کے امراء بحیثیت اپنے عہدے کے اس مجلس کے ممبر ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کو بھی بحیثیت صحابی نمائندگی کا حق دیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں مرکز کی تنظیمات کو بھی مجلس مشاورت میں بحیثیت عہدیدار مختلف شعبوں کی نمائندگی کا حق دیا جاتا ہے اور یہ طریق بھی مسلسل جاری ہے۔کہ خلیفہ وقہ بینتخب نمائندگان کے علاوہ ایسے اہل علم وفن دوستوں اور بزرگوں کو براہ راست دعوت بھیجتے ہیں جن کی شمولیت خلیفہ ایسج کے نزدیک کسی پہلو سے مفید ہو سکتی ہے۔عورتوں کی نمائندگی ابتداء میں مستورات کی آراء معلوم کرنے کا کوئی علیحدہ انتظام نہ تھا لیکن بنت شہداء میں حضرت خلیفہ ربیع الثانی رضی اللہ عنہ نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حسب ذیل طریق پر اہم مسائل پر عورتوں کی آراء معلوم کرنے کا طریق معین فرمایا :- ر عورتوں کے حق نمائندگی کے متعلق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جہاں سے رپورٹ مجلس مشاورت نه ما نیز دیکھیں یہ پورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ مده