سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 188

I^^ کے لیے ایک طریق مقرر کر دیتا ہوں۔ایک دعا افتتاح کے موقعہ پر تینوں دنوں میں ہوا کرے گی اور ایک دعا آخر میں شوری کے اختتام پر۔گویا شوری کے تینوں دنوں میں چار دفعہ دعا ہو گی ایک پہلے دن پھر دوسرے پھر تیسرے دن ابتداء میں اور کے شوری کے اختتام پر۔پس میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے ہم کو صحیح طور پر غور کرنے اور صحیح نتائج پر پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارا کام وسیع لیکن ذرائع محدد ذمہ داریاں نہایت اہم لیکن ہمارے مزاج نہایت سبک ہم اپنی تعلیم کی کمی یا تربیت کے نقص کی وجہ سے اہم چیزوں کو موقعہ پر اہم سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں اور بعض چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں۔کہ ہمارا وقت سجائے صحیح طور پر خرچ ہونے کے ضائع ہو جاتا ہے۔اور ہماری طاقت منتشر ہو جاتی ہے۔پس ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ ہم کو عقل اور ہمت بخشے تا کہ ہم ان تھوڑے تھوڑے سے سامانوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طور پر استعمال کر سکیں ہماری تدبیر اور سعی کے نتیجہ میں ہمارے سامان آنے والے کل میں آج سے زیادہ ہوں۔جو ذمہ داریاں ہمارے سپرد کی گئی ہیں۔ہم ان کو پورا کرنے کے قابل ہو جائیں۔ہماری باتیں باتیں ہی نہ ہوا کریں۔بلکہ وہ عمل کا پیش خیمہ ہوں اور ہماری فکر کتو ہی نہ ہو بلکہ وہ ایک سنجیدہ اور اٹل حقیقت ہو جس کے بعد دنیا کا کوئی عزم اس کے آگے ٹھہر نہ سکے اور کوئی طاقت اس کو دیا نہ سکے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اَصْحَانی کا لنجوم بِاتِهِمُ افتديهم اهتديتم کہ میرے سب صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔انہیں لوگوں نے بڑے بڑے دُکھ دیئے۔بڑے بڑے مصائب ان پر وارد گئے مگر وہ صبر و استقلال سے کام لیتے چلے گئے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے مدرسہ میں سبق پڑھتے پڑھتے انہوں نے نیکی اور تقوی کے امتحان میں