سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 183
JAY اور بے خطا ہے۔بعض آدمی اس میں ٹھوکر کھاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہماری رائے غلط نہیں ہو سکتی اور پھر حق سے دُور ہو جاتے ہیں بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ بچے بھی عجیب بات بیان کر دیتے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بیویوں سے بھی مشورہ پوچھتے تھے۔حدیبیہ کے وقت ہی جب لوگ غصہ میں تھے تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا کیا جائے۔انہوں نے کہا آپ جا کر قربانی کریں اور کسی سے بات نہ کریں آپ نے ایسا ہی کیا اور پھر سب لوگوں نے قربانیاں کر دیں۔تو اپنی کسی برائے پر اصرار نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ بڑوں بڑوں سے رائے میں غلطی ہو جاتی ہے۔اور بعض اوقات معمولی آدمی کی رائے درست اور مفید ہوتی ہے۔مجلس میں علم کی وسعت کے خیال سے بیٹھنا چاہئیے ہاں یہ بھی عیب ہے کہ انسان دوسرے کی ہر بات کو مانتا جائے۔سچی اور علمی بات کو تسلیم کرو اور جہالت کی بات کو نہ مانو۔ہمیشہ واقعات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔احساسات کی پیروی نہ کرنی چاہیے۔کئی لوگ احساسات کو اُبھار دیتے ہیں اور پھر لوگ واقعات کو مد نظر نہیں رکھتے۔میں نے بھی ایک دفعہ احساسات سے فائدہ اٹھایا ہے مگر ساتھ دلائل بھی پیش کئے تھے۔۔احساسات کو تائیدی طور پر پیش کرنا اور ان سے فائدہ اُٹھانا جائز ہے مگر محض ان کے پیچھے پڑنا یا ان کو اُبھار کر رائے بدلنا خیانت ہے۔اگر کوئی یہ جانتا ہو کہ اس کے دلائل کمزور ہیں۔اور پھر وہ جذبات کو اُبھارے تو وہ بددیانت ہے اور اگر کوئی یہ جانتا ہوا کہ دلائل غلط ہیں مگر احساسات کے پیچھے لگ کر رائے دے دے تو وہ بھی بددیانت ہے۔۱۰- دو قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جن میں دنیوی فائدہ زیادہ ہوتا ہے اور دینی کم۔چونکہ ہم دینی جماعت ہیں اس لئے ہمیں اس