سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 178

16^ خدمت ورسب کی بھلائی ہمارا فرض ہے کیونکہ مومن سب دنیا کا خدمت گزار ہوتا ہے۔پس یہ اللہ تعالے کا احسان ہے کہ جب دوسرے لوگ اس لئے جلسے کرتے ہیں کہ چھینا جھپٹی کر کے خود فائدہ اُٹھائیں۔ہم اس لئے جمع ہوتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم کریں۔راستی اور انصاف پر دنیا کو کاربند کریں۔پس ساری دنیا ہماری مخاطب ہے اور ہم ساری دنیا کی خدمت کرنے والے ہیں۔اور یہ ہم پر اللہ تعالے کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے یہ ملہ لہ کی یہ مجلس مشاورت جو ایک باقاعدہ ادارہ کی پہلی کڑی تھی ، جماعت کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے بالخصوص حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا افتتاحی خطاب جس میں آپ نے مجلس شوری کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلامی طریق مشاورت آداب شوری، رائے دہندہ کے فرائض ، ایجنڈے پر غورہ کا طریق اور شوری کے فیصلے اور ان کی حیثیت کو بیان فرمایا ہے۔آپ کی یہ افتتاحی تقریر جماعت احمدیہ کے نظام شوری کے لئے بلاشبہ ایک چارٹر کی حیثیت رکھتی ہے۔فکر و تدبر اور علم معانی کا ایک بنتا ہوا دریا ہے اور حضور کی ان استعدادوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو ایک عند مصلح میں بدرجہ اتم پائی جانی چاہئیں اس خطاب میں سے بعض ایسے اقتباسات پیشین کئے جاتے ہیں جو جماعت احمدیہ کے نظام شوری کا تعارف کروانے کے لئے کافی وشافی ثابت ہوں گے اور کسی مزیدہ حاشیہ آرائی کی ضرورت انشاء اللہ پیش نہ آئے گی۔مجلس مشاورت کی ضرورت بیان کرتے ہوئے حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔سب سے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مجلس جس کو پرانے نام کی وجہ سے کارکن کا نفرنس کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں کیا چیز ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ أَمْرُهُمْ شُور بَيْنَهُم اپنے معاملات میں مشورہ لے لیا کریں۔مشورہ بہت مفید اور ضروری چیز ہے اور بغیر اس کے کوئی اے رپورٹ مجلس مشاورت ۹۳ه مدت ۲