سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 164
-۲- کیا نظارتیں ان قواعد کی جو وہ پاس کرتی ہیں اور ان ہدایتوں کی جو انہیں دی جاتی ہیں پابندی کرتی ہیں اور کراتی ہیں یا نہیں ؟ نیز کیا دفاتر کا عملہ کم ہے اور کام زیادہ۔یا عملہ زیادہ ہے کام کم ہے ؟ - نظار میں مجلس شوری کے فیصلوں کو نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں ؟ - انجمن کے کارکن اپنے اختیارات ایسے طور پر تو استعمال نہیں کرتے کہ لوگوں کے حقوق ضائع ہوں ؟ ۵۔کیا کوئی صیغہ اخراجات کے بارے میں اسراف سے کام تو نہیں لے رہا ؟ چنانچہ کمیشن کے ارکان نے اپنے مفوضہ کام کو پوری تندہی سے سر انجام دیا۔کثیر شہادتیں نہیں جو ہزاروں صفحات پر مشتمل تھیں اور مکمل چھان بین کے بعد ایک مفصل اور ضخیم رپورٹ تیار کر کے حضرت خلیفتہ ایسیح کی خدمت میں پیش کی۔کمیشن کے سپرد یہ کام چونکہ پہلی بار ہوا تھا اور سابق میں اسے جماعتی اداروں کے معائنہ اور ان کے طریق کار کا وسیع تجربہ نہ تھا اس لئے کمیشن سے رپورٹ مرتب کرنے میں کئی ایک غلطیاں بھی ہو تیں لیکن بحیثیت مجموعی کمیشن کی یہ رپورٹ بڑی عمدہ اور قابل قدر تھی۔چنانچہ نساء کی مجلس مشاورت میں جب یہ رپورٹ پیش ہوئی تو اس کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے حضرت امیر المؤمنین خلیفة المسیح الثانی نے فرمایا :- جو کام انہوں رکمیشن کے ممبران) نے کیا ہے اُسے مد نظر رکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پہلی دفعہ یہ کام کیا گیا ہے جس کے لئے انہوں نے پوری محنت کی ہے کافی وقت صرف کیا ہے اور ایک لمبی رپورٹ تیار کی ہے جس کے لئے وہ جماعت کے شکریہ کے مستحق ہیں اور دوسروں کے لئے نمونہ۔کمیشن کا کا مر باعث خوشی ہے اور میں اس پر خوشی اور امتنان کا اظہار کرتا ہوں نے اس کے بعد آپ نے دوسرا کمیشن مقرر کیا اور اس سلسلہ میں فرمایا :۔" اب میں پھر کمیشن مقرر کرتا ہوں جو نظارہ توں کا کام دیکھے لیکن اس وقت آج (اپریل نسکہ) سے نہیں بلکہ آئندہ آنے والے سالانہ جلسہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ صد