سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 157
۱۵۷ دوم :- بیرونی جماعتوں پر آنے والے ناگہانی حالات اور ابتلاؤں کی اطلاع ملنے پر بھی متعلقہ دفاتر کو کھلا رہنے کی ہدایت دے دی جاتی اور کارکنان سے توقع کی جاتی کہ وہ دن رات متعلقہ جماعتوں کی مشکلات دور کرنے کی سعی کریں۔بعض احباب جماعت کی انفرادی مصیبت کی اطلاع پر بھی خواہ دن رات کا کوئی حصہ بھی ہو سلسلہ کے متعلقہ کارکنان کو طلب فرما کر فی الفور ان کی مدد کے لئے بھیجوا دیا جاتا۔شوھرہ ایسی شکایات کی صورت میں جو دفتر کی انتظامیہ سے تعلق رکھتی ہوں، اور جن کے نتیجہ میں جماعت کے کسی حصہ پر برا اثر پڑ رہا ہو یا کسی اہم فائل یا کاغذ کے گم ہو جانے کے نتیجہ میں سلسلہ کے کاموں کا نقصان ہو رہا ہو تو برائے اصلاح احوال آپ متعلقہ دفاتر کو اس وقت تک کھلا رہنے کی ہدایت فرما دیتے جب تک شکایت کا ازالہ نہ ہو جائے۔مندرجہ بالا تینوں صورتوں میں حضور خود بھی دفاتر کے عملہ کے ساتھ اسی طرح جاگتے جس طرح باقی کارکنان جاگ رہے ہوتے۔اور متعلقہ کارکنان سے مسلسل رابطہ قائم رکھتے۔اور عموما یہ ہدایت ہوتی کہ جہاں تک حضرت صاحب کی ذات کا تعلق ہے آپ کے آرام اور وقت کو قطعاً نظر انداز کرتے ہوئے جس وقت کوئی ضروری اطلاع دینی ہو وہ بلا روک ٹوک دی جائے اور جو ہدایت طلب کرنی ہو فی الفور طلب کی جائے۔بچپن میں جس گھر میں ہماری رہائش تھی اس کے ایک طرف قریب ہی صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر تھے اور دوسری طرف حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا پرائیویٹ دفتر واقع تھا جو ہمارے گھروں کے ساتھ ملحق تھا۔یہ دفتر حضور کے لئے دفتر کے علاوہ ذاتی رہائش گاہ کا کام بھی دیتا تھا۔ہم نے اکثر دیکھا کہ بعض ایسے مواقع پر جب دفتروں کو رات بھر کھلا رمنے کا حکم دیا جاتا تو ایک طرف ہمیں دفاتر کی بتیاں جلتی ہوئی نظر آتیں تو دوسری طرف حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ذاتی دفتر کی بنیاں بھی روشن دکھائی دیتیں۔کئی مرتبہ جب حضور دفتر کی بجائے اپنے حرم میں کسی کے گھر شب باشی فرماتے تو رات مختلف وقتوں میں دروازے کھٹکتے رہتے اور کارکنان بار بار حاضر ہو کر کوئی ضروری اطلاع دیتے یا کوئی ضروری ہدایت حاصل کرتے۔دس گیارہ بجے رات تک تو بچے یا بعض ملازم پیغام رسانی کا کام کیا کرتے۔دروازہ کھول کر پتہ کرتے کیا بات ہے اور پیغام پہنچا کہ حضور سے ہدایت لیتے۔لیکن رات کے دوسرے حصوں میں اکثر حضور خود ہی اُٹھ کر دروازے پر پہنچ کر آنے والے کا مدعا معلوم کیا کرتے۔پہلی صورت میں بھی اہم