سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 156

۱۵۶ روزمرہ کے انتظامی امورمیں طریق کار عمومی نگرانی اور محاسبہ انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ جہاں اصولی اور بسا اوقات تفصیلی رہنمائی فرمانے وہاں وقتاً فوقتاً کام کا محاسبہ بھی کرتے رہتے اور کبھی سختی اور کبھی نرمی کے ساتھ کبھی سخت گرفت اور کبھی دل موہ لینے والے عفو کے ساتھ منتظمین اور کارکنان کی اصلاح فرماتے رہتے۔عضو کے وقت آپ کے در گزر کا انداز بہت پیارا ہوتا اور کئی غفلتوں سے آنکھیں بند کر لیتے اور گرفت کے وقت نہایت باریک نظر کے ساتھ انتظامی کمزوریوں کو کرید کرید کر باہر نکالتے۔اگر چہ عام کارکنان کے لئے روزمرہ کے دفتری اوقات مقرر تھے۔مگر اہم جماعتی ضرورت کے وقت آپ دفتری اوقات کا کبھی لحاظ نہ کرتے اور ہر کارکن سے توقع رکھتے کہ اگر چو میں گھنٹے حاضر رہنے کا مطالبہ کیا جائے تو چہ میں گھنٹے حاضر رہنے کے لئے تیار ہو۔جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے آپ دفتری اوقات سے قطع نظر اور دن رات کی گردش سے بے نیاز حتی الامکان اپنا اکثر وقت جماعتی کاموں کے لئے وقف رکھتے۔تقریبا سولہ گھنٹے روزانہ کام آپ کا عام دستور تھا۔اپنے ماتحت کارکنان سے بھی آپ اسی طرح محنت کی توقع رکھتے تھے۔چنانچہ جب کبھی جماعتی مفاد کا تقاضا ہوتا وقت کا لحاظ کئے بغیر آپ متعلقہ افسران کو یاد فرمالیتے اور ضرورت سمجھتے تو پورے دفتر سی کو کسی اہم فریضہ کے سر انجام دینے کے لئے کھلا رکھنے کی ہدایت فرما دیتے۔دفاتر کو کھلا رکھنے کے مواقع عموماً تین وجہ سے پیدا ہوتے۔اول سلسلہ کے اوپر مشکلات اور ابتلاء کے خاص ادوار آنے سے ر ایسے وقتوں میں دفاتر بعض اوقات ۲۴-۲۴ گھنٹے کھلے رہتے۔اور کبھی یہ سلسلہ حسب حالات دنوں ہفتوں بلکہ مینوں تک بھی جاری رہتا۔کارکنان کی باری باری ڈیوٹیاں لگا دی جائیں لیکن عموما ناظروں سے ہمہ وقت حاضر رہنے کی توقع کی جاتی تھی۔چنانچہ بعض دفعہ ناظر صاحبان اپنا بوریا بستر اُٹھا کر دفاتر میں ہی رہائش پذیر ہو جاتے۔اور حالات کے معمول پر آنے تک گھر کی خبر نہ لیتے۔