سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 152

۱۵۲ انھیں کسی تجربہ کار احمدی افسر کے پاس بھیج دیتا ہوں۔اسی طرح کا ایک کیس آیا اور میں نے بابو عبد الحمید صاحب شملوی کے پاس بھیجا انہوں نے رپورٹ اس کا رکن کے حق میں کی۔لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ کارکن دو سال معطل رہا۔اتنا عرصہ غرباء کو معطل رکھنا بہت بڑا ظلم ہے وہ بیچارہ نہ کہیں اور نوکری کر سکتا ہے اور نہ کوئی کام کر سکتا ہے۔اور جو کچھ پونجی تھوڑی بہت ہوتی ہے وہ فیصلہ کے انتظار میں بیٹھ کر ختم ہو جاتی ہے۔اس لئے میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں۔درپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء ۳۵۵-۳۲) ناظروں کی رہنمائی حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا طریق کار یہ تھا کہ روزمرہ کے انتظامی امور میں ناظروں کو بلوا کہ براہ راست ہدایات دیتے تھے۔اور ان کے کام کی خود نگرانی فرماتے تھے۔لیکن اس کے علاوہ جماعتی تربیت کی خاطر بعض اوقات پبلک تقاریر میں بھی ناظروں کی اس رنگ میں رہنمائی فرماتے کہ جماعت بھی سلسلہ کے انتظامی طریق کار سے آگاہ ہو جائے اور آئندہ سلسلہ کو تربیت یافتہ کارکنان تیا ہونے میں مدد ملے۔اس ضمن میں حضور کے بعض ارشادات پیش خدمت ہیں :- ا۔میرے نزدیک یہ نہایت ضروری ہے کہ ناظروں کو اس بات کی مشق ہو کہ اپنے خیالات کی اہمیت لوگوں پر ثابت کر سکیں۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ کام کرنے والے کا یہی فرض نہیں کہ خود کام کر سکے۔بلکہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کی توجہ اور امداد اپنے کام کے لئے حاصل کر سکے۔اس لئے ناظروں کے فرائض میں سے ایک یہ بھی فرض ہے کہ عمدگی کے ساتھ تقریر کرنے اور مشکل امور کو سہل الفاظ میں لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں یہاں -۲- یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ جو قوم اپنا وقار قائم رکھنا چاہتی ہے اس ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء منا