سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 147
رسم صدر اشمین احمدیہ کی بنانی اور۔اس کی سفارشات پر حضور کے فیصلے کا طریق صدر انجمن احمدیہ کے اجلاسات میں جو فیصلے بھی کئے جاتے ہیں وہ ایک سفارش کا رنگ رکھتے ہیں جو حضرت خلیفہ مسیح کی خدمت میں منظوری کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کا عام دستور یہ تھا کہ صدر انجمین احمدیہ کی اکثر سفارشات حضور منظور فرمالیا کرتے لیکن ہر سفارش کا بڑی باریک نظر سے مطالعہ فرماتے اور جس سفارش کو نا مناسب سمجھتے اُسے رو کرتے ہوئے نہایت معقول اور ٹھوس استدلال کے ساتھ رو کرنے کی وجہ بھی ضبط تحریر میں لاتے۔بالخصوص حضور ایسے فیصلوں کو رو فرما دیا کرتے جن سے کمزور اور ماتحت کارکنان کے حقوق کی پامالی کا خدشہ ہوتا۔اسی طرح بعض اوقا کسی ضرورت کو محسوس فرما کر صدر انجمن کو یہ ہدایت فرماتے کہ فلاں مصلحت یا ضرورت کے پیش نظر اس قسم کا قاعدہ بنایا جائے۔صدر انجمن کے مطاع کی حیثیت سے آپ نے مندرجہ بالا طریق پر صدر انجمن کی جو رہنمائی فرمائی اس کا مطالعہ حضور کی بالغ قوتِ فکر و نظر کا جائزہ لینے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔صدر انجمن کے ریکارڈمیں سے محض چند نمونے ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔ناظروں کے وقار کو قائم کرنے۔اور ان کے عہدہ کے پیش نظر فیصلہ فرمایا :- صدر انجمن کو چاہیے کہ ناظروں کے گریڈ اصولی طور پر ۵۰۰ روپیہ تک قرار دے اور یہ نوٹ بھی دے دے کہ چونکہ اس قدر رقم ماہوار دینے کی گنجائش نہیں ہے اس لئے فی الحال یہ گریڈ دیئے نہیں اس طرح ناظر صاحب اعلیٰ کا گریڈ ۱۰۰+ ۵۰۰ اسی طرح پر رکھا جائے اور اسے ریکارڈ کیا جائے۔اس کو سمیٹ قابل اشاعت میں دکھانے