سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 141
۱۴۱ مجھے اُسے مارنا پڑا کہ مولوی ہونا کونسی ہنسی کی بات ہے۔ہمارا تو فرض ہے کہ جو دین کے لئے تیاری کرتا ہے اس کا زیادہ ادب و لحاظ کریں اُسے اپنا سردار سمجھیں۔خدمت دین کرنے والوں کی عزت کریں۔مگر انھی تو یہ حالت ہے کہ ایک دنیا دی اعلیٰ پوزیشن والے کی بات دین کے معاملہ میں بھی اس کی نسبت زیادہ توجہ سے لوگ سنتے ہیں جو دین کا کام کرنے والا ہے۔پھر مومن میں بڑی جرات ہونی چاہیئے۔مومن کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔لیکن یہاں ذرا افسر ناراض ہو تو بڑی مصیبت آجاتی ہے۔ایک نے لکھا کہ افسر ناراض ہو گیا ہے۔اب میں کیا کروں۔میں نے کہا کیا ہوا کیا افسر خدا ہے۔مومن کا کام یہ ہے کہ ساری دنیا کو حقیر سمجھے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کا ادب نہ کرے۔ادب کرے مگر کسی سے ڈرے نہیں۔دلیر ہو۔تو مومن کو جرات و دلیری پیدا کرنی چاہیئے۔جوش پر قابو پانا چاہیئے۔دیانت حق کی محبت۔بے رعایتی۔سچی شہادت دنیا۔بدی کے مٹانے کا احساس رکھنا۔محبت عامہ رکھنا۔زبان کو پاک رکھنا۔یہ بہت سے اخلاق ہیں بلکہ سینکڑوں ہیں۔مگر بہت سے لوگ واقف نہیں۔اگر واقف ہیں تو ان کی کیفیت معلوم نہیں۔ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ایک ایک مرد کا ایک ایک عورت کا ایک ایک بچے گا۔جب تک ان کی طرف خیال نہیں ہوگا۔تعلیم و تربیت کا صیغہ اپنے کام میں ناقص ہوگا۔پر عورتوں کی تعلیم ہے اس کی طرف توجہ نہیں۔اس کے لئے ضروری انتظام کرنا ہے پہلے نظارت امور عامه وال امور عامہ۔قضا اور احتساب کا صیغہ ضروری ہے جو ہر جگہ ہونا ے رپورٹ مجلس مشاورت ۶۱۹۲۴ ص۲۲ تا ۲۵۰