سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 129
۱۲۹ بعد بالآخر حضور علیہ السلام نے اس تجویز کو اس شکل میں منظور فرما لیا کہ اس مجلس کے جملہ ممبران خود حضور علیہ السلام نے نامزد فرمائے اور اس مجلس کا صدر بھی خود حضور نے منقہ یہ فرمایا جو حضرت مولانا حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ تھے۔ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ان کی رائے چالیس آدمیوں کی رائے کے برابر شمار ہوگی یا جب یہ عرض کیا گیا کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ صدر مجلس کو ویٹو کا حق ہوگا تو حضور علیہ السّلام نے فرمایا کہ آپ کا بھی یہی منشاء تھا۔بہر حال اس مجلس کے قیام کے وقت جو سب سے اہم اور مرکزی قائدہ ضبط میں لایا گیا وہ یہ تھا :- ہر ایک معاملہ میں مجلس معتمدین اور اس کی ماتحت مجلس یا خجالس اگر کوئی ہوں ، اور صدر امین احمدیہ اور اس کی گل شاخہائے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم قطعی اور ناطق ہو گا" مندرجہ بالا امور سے صاف ظاہر ہے کہ اس مجلس کی حیثیت امام وقت کے تابع ایک انتظامی ادارے سے بڑھ کر نہ تھی جس کی تشکیل اور جس کے اختیارات کلیہ امام وقت کی مرضی کے تابع تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام کی زندگی میں اس کی بعینہ یہی شکل رہی اور آپ کے وصال کے بعد جب ساری جماعت نے بشمول مجلس معتمدین حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی نیابت میں اپنا امام اور خلیفہ اسلمین تسلیم کر لیا اور اللہ تعالے کی مشقت نے خلافت احمدیہ کی شکل میں قدرت ثانیہ خطا کرنے کا وعدہ پورا فرما دیا تو خلافتِ اُولیٰ کے اولین سالوں میں یہ انجمن اسی طرح امام وقت کے ارشادات کے کلیت تابع رہ کر مفوضہ امور سر انجام دیتی رہی جیسے پہلے دیا کرتی تھی تاہم کچھ ایسی علامات بھی ظاہر ہونی شروع ہوئیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ مجلس معتمدین کے بعض ممبران اپنی حیثیت سے بڑھ کر اختیارات حاصل کرنے کے متمنی ہیں اور خلافت احمدیہ کی بجائے مجلس معتمدین ہی کو خلافت کا مقام دنیا چاہتے ہیں اس فتنہ کا کسی قدر تفصیل سے پہلے ذکر گزر چکا ہے۔لہذا یہاں تکرر کی ضرورت نہیں۔" ہر حال حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جب خلافت کی اہم ذمہ داریاں نبھائیں تو ان تمام خرا ہیوں پر آپ کی نظر تھی جو اس قسم کی انجمنوں کے قیام کی غرض و غایت کونہ مجھے کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتی ہیں۔علاوہ ازیں جماعت کے بڑھتے ہوئے کاموں کے پیش نظر بعض ه رپورٹ مجلس مشاورت ۴۱۹۲۰ هک ۳ -