سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 130
ایسی نئی انتظامی ضرور میں بھی سامنے آرہی تھیں جن کو یہ انجمن پورا نہ کر سکتی تھی۔عہد خلافت اولی تک دستور یہ تھا کہ ہر قسم کے انتظامی معاملات براہ راست مجلس معتمدین میں ہی پیشی ہوتے تھے جبکہ صیغہ جات کے افسران جو انتظامی امور کو چلانے کے ذمہ دار تھے اس انجمن کے رکن نہیں تھے۔پس انتظامی مسائل کا عملی تجربہ رکھنے والے کارکنان الگ تھے اور انتظامی امور کا فیصلہ کرنے والی انمین الگ ، جسے براہ راست کوئی انتظامی تجربہ نہ تھا۔یہ صورت حال فی ذاتہ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی تھی۔چنانچہ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مختلف احباب جماعت سے مشورہ کے بعد جو پہلا انتظامی اصلاحی قدم اٹھایا وہ یہ تھا کہ ایک الگ مجلس انتظامیہ قائم کی جو صیغہ جات کے سربراہوں پر مشتمل تھی اور براہ راست خلیفہ وقت کی رہنمائی میں کام کرتی تھی۔انتظامی امور سے متعلق مشورے اسی مجلس انتظامیہ میں پیش ہوتے جو آخری فیصلہ کے لئے حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں پیش کئے جاتے۔اس مجلس کا نام مجلس نظارت رکھا گیا۔لیکن اس مجلس کے قیام کے با وجود مجلس معتمدین اسی طرح قائم رہی البتہ ان دونوں مجلسوں کے دائرہ عمل اور طریق کار کو علیحدہ علیحدہ متعین کردیا گیا۔اس نئی انتظامیہ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : احباب جماعت کی اطلاع کے لئے شائع کیا جاتا ہے کہ ضروریاتِ سلسلہ کو پورا کرنے کے لئے قادیان اور بیرونی جماعت کے احباب سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہ انتظام کیا ہے کہ سلسلہ کے مختلف کاموں کے سر انجام دینے کے لئے چند ایسے افسران مقرر کئے جائیں جن کا فرض ہو کہ وہ حسب موقعہ اپنے متعلقہ کاموں کو پورا کرتے رہیں اور جماعت کی تمام ضروریات کو پورا کرنے میں کوشاں رہیں۔فی الحال میں نے اس غرض کے لئے ایک ناظر اعلیٰ۔ایک ناظر تالیف و اشاعت۔ایک ناظر تعلیم و تربیت اور ایک ناظر امور عامہ اور ایک ناظر بیت المال مقرر کیا ہے اور ان عہدوں پر سر دست ان احباب کو مقرر کیا ہے۔ناظر اعلیٰ مکرمی مولوی شیر علی صاحب ، ناظر تالیف واشاعت مکرفی مولوی شیر علی صاحب - ناظر تعلیم و تربیت مکرمی