سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 128

SYSTEMS POLITICAL ) پر بھی نظر آپ نے نظام سلسلہ کی تشکیل کے وقت نہ صرف تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ فرمایا بلکہ دنیا میں رائج الوقت سیاسی نظاموں ) ڈالی لیکن اہم جماعتی امور میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے آپ محض علمی تحقیق پر انحصار نہ فرماتے بلکہ سنت نبوئی پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ آخری فیصلہ سے پہلے صائب الرائے احباب جماعت سے مشورہ حاصل کیا کرتے۔اس کے بعد دعاؤں اور استخاروں کے ذریعہ اللہ تعالے سے رہنمائی حاصل کرتے اور جس امر پر اللہ تعالے آپ کو شرح صد عطا فرما دیا اسے اختیار کر لیتے۔صدر انجمن احمدیہ جماعت احمدیہ کا مرکزی انتظامی ادارہ جو صدر انجمن احمدیہ کے نام سے موسوم ہے، ابتداء میں اس کی یہ صورت نہ تھی بلکہ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس نے رفتہ رفتہ موجودہ شکل اختیار کی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام نے الہام الہی کی روشنی میں جس انجمن کی تشکیل فرمائی تھی اس کا نام حضور علیہ السّلام نے مجلس کارپردازان مصالح قبرستان رکھا تھا جس کا اصل کام نظام وصیت کو رائج کرنا تھا۔اس انجمن کی تشکیل نے رفتہ رفتہ بعض اور تجاویز کو جنم دیا۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب کو خیال آیا کہ کیوں نہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو یہ مشورہ دیا جائے کہ جماعت کے تمام اموال کو اس انجمن کی نگرانی میں دے دیا جائے جس کی صورت یہ ہو کہ ایک نئی انجمن بنام صدر انجمن احمدیہ قائم کی جائے جو دُنیا کے تمام احمدیوں پرمشتمل ہو یعنی بحیثیت احمدی ہر شخص اس کا رکن متصور ہو۔اس انجمن کی ایک مرکزی انتظامیہ قائم کی جائے جس کا نام مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ رکھا جائے اور یہ انجمن امام وقت حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی رہنمائی نگرانی اور کامل اطاعت میں سلسلہ کے مختلف مالی اور تنظیمی امور چلانے کی ذمہ دار ہو۔چنانچہ جب یہ تجویز حضرت اقدس کے سامنے پیش ہوئی تو مختلف احباب کے مشورہ کے