سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 127

۱۲۷ مرکزی قوتوں سے متحرک رہتا اور اپنی طبعی تشکیل کے مقاصد سر انجام دنیا ہے اور انہی کی رہنمائی میں مختلف روحانی اغراض کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہے۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اسی رہنما اصول کی روشنی میں تمام نظام جماعت کی تشکیل کی اور یہ سلسلہ ہمیشہ آپ کی رہنمائی میں ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔آپ کا طریق یہ تھا کہ جب بھی ذہن میں کوئی انتظامی تدبیر آتی تو اس کے مماثل پر نظر دوڑاتے اور دنیا میں رائج ایسے نظاموں کا بھی مطالعہ فرماتے جو کسی نہ کسی پہلو سے آپ کی زیر نظر تجویز پر روشنی ڈال سکتے ہوں۔اس سلسلہ میں مکرم و محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ کی ایک دلچسپ روایت پیش ہے جو آپ نے راقم الحروف کے سامنے متعدد بار بیان کی۔مکرم ڈاکٹر صاحب کو ایک لمبا عرصہ حضور کے ذاتی معالج کی حیثیت سے حضور کے قریب رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ فرماتے تھے:۔ایک مرتبہ حضور نے مجھے یاد فرمایا اور بتایا کہ آپ نظام جماعت میں اصلاحی تبدیلیاں کرنے پر غور فرما رہے ہیں لہذا چاہتے ہیں کہ انسانی جسم کے نظام کا مطالعہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو ایک کامل نظام کی شکل میں پیدا کیا ہے۔اور اس کے مطالعہ سے بہت سی مفید رہنمائی حاصل ہو سکے گی چنانچہ آپ نے ANATOMY اور PHYSIOLOGY وغیرہ کی مختلف کتب حاصل کر کے ان کا مطالعہ فرمایا اور بہت سے مفید نتائج اخذ کئے۔غالباً اسی تحقیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے ایک مرتبہ فرمایا۔اللہ تعالے نے نظام جسم میں ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے بکثرت متبادل راستے تجویز کر رکھتے ہیں مثلاً اگر ایک شریان بند ہو جائے تو اس کی جگہ دوسری شہریان نیا راستہ مہیا کر دیتی ہے۔لہذا انسان کو کسی نظام کی تشکیل کے وقت اس رہنما اصول کو مد نظر رکھنا چاہیئے۔اسی طرح آپ کی تقاریر میں بکثرت ایسے حوالے ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ