سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 126

۱۲۶ نظام جماعت احمدیہ کی تشکیل و ترویج بحیثیت امام جماعت احمدیہ، ابتدائے خلافت ہی سے آپ کی توجہ جماعتی نظام کو اس طرح مستحکم کرنے کی طرف لگی ہوئی تھی کہ خلافت راشدہ اسلامیہ کو حین خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔اگر دوبارہ اسی قسم کے خطرات خلافت احمدیہ کو درپیش ہوں تو جماعت اُن کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔علاوہ ازیں قوموں کی ترقی اور تنزل کے اسباب پر نظر کرتے ہوئے آپ ایسے تمام ذرائع اختیار کرنا چاہتے تھے جو الا ماشاء اللہ جماعت کے لئے رختوں سے پاک اور ہمیشہ قائم رہنے والی نچی اور فعال زندگی کے ضامن ہو سکیں۔اس پہلو سے آپ کی زندگی کا مطالعہ دلچسپی کا گہرا مواد اپنے اندر رکھتا ہے جماعت کی تشکیل کے سلسلہ میں آپ نے جو جو ذرائع اختیار فرمائے اور جو جو تدابیر سوچیں وہ ایک ایسے شخص سے ہی ممکن تھیں جو مورخ بھی ہو۔اور مفکر بھی۔صاحب علم بھی ہو اور صاحب عمل بھی۔فطرت انسانی سے بھی آشنا ہو اور مختلف انسانی طبقات کے مزاج پر بھی گہری نظر رکھتا ہو اور ان سب کے علاوہ ایک صاحب تجربہ روحانی وجود ہو۔یہ تمام کمالات آپ کی ذات میں جمع تھے اور اُن کے امتزاج نے اس نظام کو جنم دیا جو آج نظام جماعت احمدیہ کی شکل میں نہایت مستحکم صورت میں دنیا کے سامنے ایک مثالی نظام کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔نظام به وہ قدرت ثانیہ جس کی اللہ تعالے کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو بشارت دی گئی تھی کہ آپ کے جانے کے بعد آئے گی وہ نظام خلافت احمدیہ کی صورت میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے وصال کے بعد ظاہر ہوئی اور یہی خلافت احمدیہ ہے جو نظام جماعت احمدیہ کا مرکز کی نقطہ ہے جو ایک دل کی طرح جماعت احمدیہ کے سینے میں دھڑک رہا ہے۔خلیفہ ایسیح، حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی طرح ہی جماعت احمدیہ کے مطاع اور روحانی پیشوا ہیں۔ایک پہلو سے جماعت احمدیہ میں خلیفہ ایسیح کو وہی حیثیت حاصل ہے جو انسانی جسم میں دل کو ہوتی ہے۔اور ایک دوسرے پہلو سے اس کی مثال دماغ کی سی ہے۔باقی تمام نظام سلسلہ انہی دو