سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 120
پر جماعت احمدیہ مبائعین کی ایک روشن اور نمایاں فتح تھی۔قومی رہنماؤں پر فتح و نصرت کے اثرات ان کے کردار کے مطالعہ میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔آئیے دیکھیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر اس کا کیا اثر پڑا۔عموما ایسے موقع پر فتح مند رہنما فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہیں۔تعلی کے کلمات منہ سے نکالتے اور خود اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں یا پھر اپنی قوم کی بڑائی اور عظمت کے گیت گاتے ہیں۔لیکن آپ کا رد عمل اس سے بالکل مختلف تھا۔نہ تو آپ فخر و مباہات کی طرف مائل ہوئے نہ اپنی ذاتی صلاحیتوں کے گن گائے بلکہ کامل نعجز کے ساتھ اپنے خدا کے حضور اسی کی حمد کے گیت گاتے ہوئے جھک گئے اور ہر کامیابی کو اللہ تعالٰی ہی کے فضل اور نصرت کا نتیجہ قرار دیا۔بعض اوقات فتوحات انسان میں غفلت اور سستی پیدا کرنے کا موجب بھی بن جاتی ہیں۔لیکن حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا کردار اس پہلو سے بھی امتیازی شان کا حامل تھا زندگی بھر کسی کامیابی نے آپ کی قوت عمل کو کمزور نہیں کیا۔بلکہ ہمیشہ اس کا برعکس نتیجہ پیدا کرتی رہی۔ہر کامیابی آپ کو پہلے سے زیادہ تیزرو بنا جاتی۔اور ہر فتح کے موقعہ پر آپ کی تیز نظر آن خطرات کو بھانپ لیتی جو عموماً فتوحات کے عقب میں قوموں کے کردار پر شب خون مارنے کے لئے گھات لگائے رہتے ہیں۔پس اس موقع پر بھی جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ کے احسانات پر آپ کا دل حمد سے بھر گیا وہاں آپ کا ذہن ان خطرات کی طرف بھی منتقل ہو گیا جو کامیابی کی ہر منزل کے بعد جماعت کو پیش آسکتے تھے۔زیر نظر جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کی چوتھی تقریر اسی مضمون سے تعلق رکھتی ہے۔اس تقریر میں آپ نے جماعت کو متنبہ کیا کہ کس طرح عظیم فتوحات اور فوج در فوج جماعت مومنین میں غیروں کی شمولیت اپنے عقب میں بعض خطرات بھی لے کہ آتی ہے۔مُرتبیان کی کمی اور قابل تربیت لوگوں کی کثرت نئے نئے خیالات اور جاہلانہ روایات کی اکاس بیل امام وقت براه راست تربیت پانے والے معلمین کا کم ہو جانا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کے متعلق فکر کرنا لانہمی ہوتا ہے۔پس ضروری ہے کہ جماعت فوری طور پر کثرت سے مرتبیان اور معلمین پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہو۔