سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 117

118۔۔۔۔۔۔۔۔آج تک ہمارے مبلغوں کا زور غیر احمدیوں پر ہی رہا ہے۔کثرت سے ہندو آباد ہیں۔ان میں بھی تبلیغ ہونی چاہیے۔بہت سی سعید روحیں ان میں بھی ہوتی ہیں۔تمہاری ہمدردی ان کے ساتھ بھی ایسی ہی ہونی چاہئیے۔۔۔۔۔۔حضرت معین الدین چشتی کوئی اتنے بڑے عالم نہ تھے بلکہ انہوں نے اپنے اعمال کے ساتھ دعاؤں کے ساتھ ہندوؤں کو مسلمان بنایا نیز مبلغ کا فرض ہے کہ ایسا طریق اختیار نہ کرے کہ کوئی قوم اُسے اپنا دشمن سمجھے۔تبلیغ میں یہ یاد رکھو کہ کبھی کسی شخص کے اقوال سے گھبراؤ نہیں اور نقول پر دارومدار رکھو۔دلیل اور قول میں فرق ہے۔دلیل پر زور دینا چاہیئے لوگ دلیل کو نہیں سمجھتے۔مسلمان آریوں سے بات کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں قرآن میں یوں آیا ہے۔آریوں کے لئے قرآن حجت نہیں۔تم رویہ دلیل کو پیش کرنے کا اختیار کرو تا جماعت احمدیہ میں یہ رنگ آجائے۔۔۔۔۔۔۔جب بحث کرو تو مد مقابل کی بات کو سمجھو کہ وہ کیا کہتا ہے۔مثلا تناسخ کی بات شروع ہوتی ہو تو فورا تناسخ کے رد میں دلائل دینے نہ شروع کرد کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے مسئلے میں بھی اختلاف آرہا ہے۔اب اگر تم اس کے بر خلاف دلیلیں دینے لگ پڑو اور آخر میں وہ کہہ دے کہ آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں تو تقریر بے فائدہ جائے گی۔۔۔بغیر خیالات معلوم کئے بات نہ کرو۔تناسخ کے متعلق بات کرو تو پوچھو، کہ تمہار ا تناسخ سے کیا مطلب ہے۔اس کی ضرورت کیا پیش آئی۔غرض ایسے سوالات کر کے پہلے اس کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو اور پھر بات کرو۔۔۔۔۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا سیکھو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا ایسا گر ہے کہ انسان اس کے ذریعے سے بڑے بڑے عہدے حاصل کرنا ہے۔۔۔۔۔اسی کا نام لیاقت ہے۔دوسرا طریق دوسروں سے کام لینے کا ہے بڑے بڑے عہدیدار خود تھوڑا کام کرتے ہیں۔دوسروں سے کام لیتے ہیں۔لیکن وہ تو خوب تنخواہیں پاتے ہیں۔لیکن ایک محنتی مزدور آٹھ آنے ہی کماتا ہے۔یہ لیاقت کام کرنے کی لیاقت سے بھی بڑی ہے۔پس جتنی لیاقت کام