سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 118

کروانے کی ہوگی اتنا ہی بڑا عہدہ ہو گا۔۔۔ایسے رنگ میں کام کروا کہ لوگوں کے اندر ایک روح پھونک دو۔کبھی مت سمجھو کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مانتے نہیں۔عرب کی زمین کیسے شریروں کی تھی پھر کیسے شریفوں کی بن گئی۔یہ بات غلط ہے کہ وہ مانتے نہیں تم ایک دفعہ سُناؤ دو دفعہ سُناؤ آخر مانیں گے یہ اس شخص کی اپنی کمزوری ہوتی ہے جو کہتا ہے مانتے نہیں۔اپنے کام کی پڑتال کرتے رہو ہمیشہ اپنے کام کی پڑتال کرو۔کیا کامیابی ہوئی۔تمہارے پاس ایک رجسٹر ہونا چاہیئے اس میں لکھا ہوا ہو کہ فلاں جگہ گئے وعظ فلاں مضمون پر کیا۔اس اس طبقے کے لوگ شامل ہوئے۔فلاں فلاں وجوہات پر مخالفت کی گئی۔فلاں فلاں بات لوگوں نے پسند کی۔یہ رجسٹر آئندہ تمہارے علم کو وسیع کرنے والا ہوگا۔تم سوچو گے۔کیوں مخالفت ہوئی۔اہم مسائل کا تمھیں پتہ لگ جائے گا۔اُن پر آئندہ غور کرتے رہو گے اگر تم وہاں سے بدل جاؤ گے تو پھر تمہارے بعد آنے والے کے کام آئے گا۔۔۔۔۔۔کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے۔یہ خیال کر کے کہ اگر یہ یوں نہیں مانتا تو اس طرح مان لیگا اس میں وہ تو نہ ہارا۔تم ہار گئے۔۔۔۔۔۔۔ایسی محبت احمدی لوگوں سے ہونی چاہیے کہ رشتہ داری کی محبت سے بھی بڑھ جائے۔حق کی تائید ہونی چاہئیے۔یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ اگر احمدی کے مقابل میں رشتہ دار آگیا ہے تو اپنے رشتہ دار کی طرفداری اختیار کر لی جائے اس بات کو پیدا کرو کہ ہر ایک آدمی مبلغ ہے۔صحابہ سب مبلغ تھے۔اگر ہر ایک آدمی مبلغ ہو گا تب اس کام میں کچھ آسانی پیدا ہوگی اس لئے ہر ایک احمدی میں تبلیغ کا جوش پیدا کرد۔۔۔پھر مالی امداد کا احساس پیدا کرو۔۔۔۔۔۔یہ احساس پیدا ہونا چاہیئے کہ ضروریات کو کم کر کے بھی دین کی راہ میں روپیہ خرچ کیا جائے۔۔۔۔۔۔جماعت کی یہ حالت ہے کہ اخبار میں چندے کے متعلق تکلے تو کان ہی نہیں