سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 111

رائج کرنے کی جو گن تھی انہی ایام میں اس کے اظہار کا ایک موقع اس طرح پیش آیا کہ حکومت کی طرف سے مسلمانوں سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ اپنے مقدمات وراثت کا فیصلہ رواج کے مطابق چاہتے ہیں یا شریعت کے مطابق۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تاکیدی ہدایت پر جماعتوں نے حکومت کو میموریل بھیجے کہ ہمارے فیصلے قومی رواج کے مطابق نہیں بلکہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کئے جائیں۔البتہ جو مسائل اسلامی فرقوں میں متنازعہ فیہ ہوں ، اُن میں احمدی علماء کی رائے معتبر مانی جائے ایک نئے تبلیغی مشن کا قیام اسی سال آپ کو ماریشس کا نیا مشن قائم کرنے کی توفیق ملی جس کے پہلے مبلغ حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے مقرر ہوئے جو پہلے مدراس سے ہوتے ہوئے پہنچے اور وہاں تین ماہ تک فرائض تبلیغ ادا کرنے کے بعد ۱۵رجون کو ماریشس چلے گئے جہاں آپ ایک لمبے عرصہ تک اشاعت دین کا کام سرانجام دیتے رہے۔آپ نے ۲ ار مارچ ۱۹۱۶ء کو نصائح مبلغین کے عنوان کے تحت مبلغین سلسلہ کو بیش قیمت نصائح فرمائیں جو گہری حکمت سے پر ہیں اور آج بھی احمدی مبلغین کے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔یه تقریر جو الفضل ۲۹ اگست سنوار میں شائع ہوئی۔اس کے چند اہم اقتباسا ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں :۔تبلیغ میں تزکیہ نفس سے غافل نہ ہو سب سے پہلے مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ نفس کرے۔صحابہ کی نسبت تاریخوں میں آتا ہے جنگ پر موگ میں دس لاکھ عیسائیوں کے مقابل میں ساٹھ ہزار صحابہ تھے۔قیصر کا داماد اس فوج کا کمانڈر تھا۔اس نے جاسوس کو بھیجا کہ مسلمانوں کا جا کر حال دریافت کرے۔جاسوس نے اگر بیان کیا۔مسلمانوں پر کوئی فتح نہیں پا سکتا۔ہمارے سپاہی لڑ کر آتے ہیں ، اور