سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 110

11- ہوا۔اس مضمون کی تیاری کا واقعہ بھی دلچسپی کا حامل ہے۔دراصل یہ مضمون انگریزی زبان میں لکھا جانا تھا اور مکرم مولوی محمد دین صاحب بی۔اے ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول رحال صدره صدره النجمین احمدیہ پاکستان۔ربوہ ) کے سپرد تھا۔مگر مولوی صاب موصوف اپنی شدید مصروفیات کے باعث اس طرف کما حقہ توجہ نہ فرما سکے۔اد مصر سر مارچ کو جلسہ شروع ہونا تھا اُدھر ۲ مارچ کی صبح کو حضرت خلیفہ اینچ الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مضمون کی تیاری کا خود ہی بیڑا اٹھایا۔وقت چونکہ تھوڑا تھا۔انگریزی میں اس کا ترجمہ بھی کیا جانا تھا۔اکثر مقررین دہلی جاچکے تھے یا جارہے تھے اس لئے اس کی تصنیف اس عجیب رنگ میں ہوئی کہ ہر مارچ کو ظہر کی نماز تک آپ نے ایک حصہ لکھ کر امیر قافلہ حضرت مولوی محمد دین صاحب کے سپرد کیا تا کہ دہلی جاتے ہوئے راستہ ہی میں انگریزی ترجمہ مکمل کر لیں۔پھر رات کے ۲ بجے پیچھے پیچھے منشی فخر الدین صاحب کے ہاتھ دوسرا حصہ بھجوایا۔دوسرے روز جمعہ کا دن تھا چنانچہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہوتے ہی تیسرا حصہ شیخ عبد الخالق صاحب ماہر عیسائیت کے سپرد کیا جو اسی وقت دہلی کے لئے روانہ ہو رہے تھے۔اس کے باوجود ابھی کچھ حصہ مضمون کا باقی تھا۔چنانچہ دو گھنٹے کے اندر کچھ اور حصہ مضمون نکھر کر شیخ عبد الخالق صاحب کے پیچھے پیچھے ایک سائیکل سوار کو دوڑایا کہ بٹالہ پہینچ کر گاڑی روانہ ہونے سے قبل بقیہ مضمون شیخ صاحب کے سپرد کر دے لطف کی بات یہ ہے کہ اس سلسلہ کی یہ کڑی بھی آخری نہ تھی۔چنانچہ دن کا بقیہ حصہ بھی مضمون نویسی ہی میں صرف ہوا یہاں تک کہ رات بھیگ گئی لیکن آپ نہ تھکے نہ ماندہ ہوئے اور رات کے تین بجے آخری حصہ مضمون شیخ عبد الرحمن صاحب قادیانی کے سپرد کیا گیا کہ وہ لے کر جلد از جلد دہلی پہنچیں ہے مندرجہ بالا واقعہ سے آپ کی خداداد اور حیرت انگیز قوت تصنیف اور علو ہمت ظاہر وباہر ہے۔لو جماعت احمدیہ کے باہمی معاملا میں قانون شریعت اسلامیہ کے نفاذ کا مطالبہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو جاعت احمدیہ میں قانون شریعیت له الفضل مارچ 1917ء