سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 108
حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے کردار کے متعلق پہلے بھی ذکر آچکا سے کہ اس میں غالب عنصر جوش تبلیغ تھا جس طرح انگریزی کا محاورہ ہے۔ALL ROADS LEAD TO ROME کہ سب سڑکیں روم ہی کی طرف جاتی ہیں آپ کے ذہن کی ہر کوشش کا بھی آخری رخ اشاعت اسلام ہی کی جانب تھا۔فکر و نظر کو اُبھارنے کا محرک اول خواہ کوئی بھی ہو فکر و نظر کی آخری منزل دینِ اسلام کے عالمگیر غلبہ کا موضوع ہی ہوتا۔ہر موقع اور ہر تغیر آپ کی توجہ نئی تبلیغی تجاویز کی طرف مبذول کرا دیتا تھا یہاں تک کہ بیماری میں بھی نئے و تشکیل پاتے تھے۔ایک مرتبہ اوائل 1914لہ میں آپ کی ران پر ایک تکلیف دہ پھوڑا نکلا۔جس کا آپریشن کروانا پڑا۔چنانچہ اس بیماری میں زیادہ تر آپ کی فکر و نظر کا مرکز نے تبلیغی منصوبے بنے رہے ان میں سے ایک یہ تجویز تھی کہ ہندوستان کے دارالسلطنت دہی شہر میں ایک ایسا تبلیغی جلسہ کیا جائے جس میں اُردو کے علاوہ عربی اور انگریزی زبان میں بھی تقاریر ہوں۔آپ کو اس جلسہ کا خیال یوں پیدا ہوا کہ اہلِ دہلی خصوصا دہلی کے مسلمان علماء جماعت احمدیہ کے متعلق یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ جماعت احمدیہ علومِ عربیہ سے ناواقف ہے اور اُردو زبان پر بھی عبور نہیں رکھتی پھر یہ دنیا کے سامنے کیا اسلام پیش کرے گی چنانچہ ہماری کے ایام میں مختلف تجاویز سوچتے ہوئے آپ کو خیال آیا کہ اللہ تعالی کے فضل سے جب ہمارے پاس ان تینوں زبانوں میں چوٹی کے علماء موجود ہیں تو کیوں نہ اہلِ دہلی پر یہ حقیقت منکشف کر دی جائے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے فاضل علماء اپنے علم و فضل کے ساتھ بڑے بڑے مدعیان علم و فضل کا منہ بند کر سکتے ہیں۔چنانچہ ہماری کے ایام میں ہی اس تجویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دہلی میں ایک نئی طرز کے جلسہ کا اہتمام کیا گیا جو حسب ذیل امتیازی خصوصیات رکھتا تھا :- اول۔مختلف اہم اختلافی مسائل پر عربی ، انگریزی اور اُردو میں متعدد تقاریر رکھی گئی تھیں مسلسل چار روز یک سلسله تقاریر جاری رہا )