سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 98
۹۸ حضرت مرزا صاحب نے اس کا بھی فیصلہ کر دیا ہوا ہے اور وہ یہ کہ جو چیلنج منظور کرے وہی بیج بھی منظر کرے دبشر طیکہ وہ حج اس کے مریدین وغیرہ میں سے نہ ہوں ، البتہ وہ حج فیصلہ کرتے وقت یہ قسم کھائیں کہ اگر ہم جھوٹا فیصلہ کریں تو ایک سال کے اندر اندر ہم پر خدا کا عذاب نازل ہو۔پھر اگر ایک سال تک ان پر کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہو جو خاص شان اور ہیبت رکھتا ہو تو انعام سپرد کر دیا جائے گا۔پروفیسر صاحب :- یہ تو بہت وسیع حوصلہ دکھایا گیا ہے۔آپ سے گفتگو کر کے مجھے بہت فائدہ حاصل ہوا ہے۔اور میں آپ کا شکر گزار ہوں " الفضل 9 دسمبر ۱۹) ایک تیسرا پہلو اسلام کے سپہ سالار کی حیثیت سے آپ کے کردار کی عظمت کا اس گفتگو کے دوران یہ ظاہر ہوا کہ اُن مستشرقین کو جو اسلام کو غیر اخلاقی جارحیت اور ضد اور تعصب کے طعنے دیا کرتے تھے خود انہی کے ہتھیاروں سے مجروح کرتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ اسلام سے مقابلہ کرتے وقت جاہلانہ سختی اور درشتی سے کام نہ چلے گا۔اپنے اندر کچھ حوصلہ پیدا کریں اور اخلاق کی حدود میں رہتے ہوئے حقیقت کی چار دیواری میں محدود ہو کہ محققانہ رنگ میں اہل اسلام سے گفتگو کریں۔اس میں دونوں فریق کا فائدہ ہے۔پروفیسر مار گولیتھ نے آپ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ آپ کا یہ پیغام یورپ کے علمی حلقوں تک پہنچا دینگے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند عربی کتب لے کر جو شخفتہ پیش کی گئی تھیں قادیاں سے رخصت ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی شخصیت ہر پہلو سے ہمہ گیر تھی اور ہر دائرہ فکر و عمل حیرت انگیز وسعت اور لچک رکھتا تھا۔بعض بڑے بڑے عالم فاضل زائرین سے آپ کی گفتگو کے مناظر گزرچکے ہیں۔اب ایک ایسے زائر سے تبادلہ خیالات کا منظر بھی پیش کیا جاتا ہے جو علمی لحاظ سے محض واجبی حیثیت رکھتا تھا اور ذہانت کا معیار بھی کوئی خاص بلند نہ تھا۔ایک صاحب علم و فضل انسان کا ایسے شخص سے مباحثہ کرنا جو کم علم ہونے کے علاوہ