سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 99
۹۹ کچھ بحثی کی طرف بھی مائل ہو بڑا صبر آزما کام ہوتا ہے۔بڑے با اخلاق علماء کے منہ سے بھی ایسے موقع پر کوئی سخت کلمہ منہ سے نکل ہی جاتا ہے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالے نے غیر معمولی حلم اور حوصلہ عطا فرمایا تھا اور کسی متلاشی حق سے گفت گو کے وقت آپ ضبط و تحمل کی باگیں بڑی مضبوطی سے تھامے رہتے خواہ مد مقابل کی کی سمتی کیسی ہی بار خاطر کیوں نہ ہو۔یہ صاحب جن کے ساتھ بحث کا ایک منتظر الفضل سے اخذ کر کے من و عن پیش کیا جا رہا ہے ، ایک دہریہ سکھ تھے جو خدا کی مہستی کا ثبوت ڈھونڈنے نکلے تھے۔سیکھ صاحب نے سب سے پہلا سوال یہ کیا کہ " ہم کسی کی عبادت کیوں کریں ؟ اس کی کیا ضرورت ہے ؟ " حضرت خلیفہ ایسیح : پیشتر اس کے کہ میں آپ کے سوال کا جواب دوں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ آیا کوئی ایسی مہتی ہے بھی میں کی عبادت کی جائے یا نہیں۔اگر وہ ہستی ثابت ہو گئی تو عبادت کرنے کا سوال خود بخود حل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔میں چونکہ مسلمان ہوں، اس لئے میں اسلام کے بیان کردہ دلائل دُوں گا اور قرآن شریف سے دُوں گا۔اس کے بعد یہ سوال حل ہو جائے گا کہ عبادت کیوں کی جائے اور اس کی کیا ضرورت ہے ؟ سکھ :۔آپ قرآن شریف سے جو دلائل دیں گے وہ میرے لئے کس طرح قابل سند ہو سکتے ہیں جبکہ میں قرآن کو مانتا ہی نہیں۔حضرت: ہر ایک مدعی اپنے دعوئی کے متعلق کچھ ایسے دلائل رکھتا ہے جو اس کے نزدیک درست ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔میں نے جو مشر آن شریف کو دلائل کے لئے پیش کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مذہب کوئی دعوی کرتا ہے اور دلائل نہیں دیتا اور دلائل کے لئے انسانوں کا محتاج ہے وہ سچا نہیں ہو سکتا۔دوسرے میری یہ بھی عرض ہے کہ آپ کو قرآن شریف کے دلائل سے خدا تعالے کا ثبوت دیکر جہاں اس کی ہستی بتاؤں وہاں ساتھ ہی یہ بھی ثابت کر دوں ، کہ