سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 96
۹۶ دکھایا گیا۔اس قسم کا کشف جو دوسروں کو بھی دیکھائی دے۔اس زمانہ میں بھی ہوا اور ہو سکتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اس کشف میں دکھایا گیا ہے کہ چاند پھٹ گیا ہے جس سے یہ مراد تھی کہ عرب کی حکومت تباہ ہو جائے گی۔اس قسم کے کشف کا دروازہ بند نہیں ہوا اب بھی کھلا ہے۔اس بات کا ثبوت کہ قمر سے مراد عرب کی حکومت تھی اس مشہور واقعہ سے ملتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر حملہ کیا تو وہاں کے سردار کی لڑکی صفیہ نے رویا دیکھا کہ چاند میری گو ہیں آگیا ہے۔اس نے جب یہ رویا اپنے باپ کو سُنائی تو اس نے اسے تھپڑ مارا کہ کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے یہ خواب اس کی اس رنگ میں پوری ہوئی کہ جب خیبر فتح ہوا تو حضرت صفیہ کا نکاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔غرض چاند اہل عرب کی حکومت کا نشان تھا اور اس کے پھٹنے میں اس وقت کے انتظام حکومت کی تباہی کی پیشگوئی تھی ؟" یہ جواب شنکر پر و فیسر صاحب نے اس میں کسی اعتراض کی گنجائش نہ پائی۔البتہ ایک اور سخت تر جملہ اس سوال کی صورت میں کیا۔کہ قرآن کے بے مثل ہونے کا جو معجزہ ہے کیا وہ دوبار دکھایا جا سکتا ہے۔شاید ان کا خیال تھا کہ اگر مرزا صاحب کہیں کہ دکھایا جا سکتا ہے۔تو قرآن کا بے مثل ہونا بظا ہر مشکوک ہو جائے گا۔اور اگر کہیں نہیں دیکھایا جا سکتا تو یہ دعوئی کہ اس زمانہ میں شواہد پیش کئے جا سکتے ہیں غلط ثابت ہوگا لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا پورا جواب جو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ان دونوں خطرات سے بچ کر حقیقت کو اس رنگ میں واضح کر گیا۔کہ پروفیسر صاحب موصوف کے لئے مزید جرح کی گنجائش نہ رہی اور اس چیلنج کو جو احمدیت نے پیش کیا تھا قبول کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے لگے حضرت صاحب نے فرمایا :- اس زمانہ میں کم از کم بنیں دفعہ تو دکھایا جا چکا ہے۔ہمارے امام حضرت مرزا صاحب نے کئی ایک کتابیں عربی زبان میں لکھیں تعین