سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 5

اور پہلے سے بھی بھیانک شکلیں نظر آنے لگیں حتی کہ بعض سرکئے ہوئے جن کے ساتھ دھڑ نہ تھے ہوا میں معلق میرے سامنے آئے اور طرح طرح کی شکلیں بناتے اور منہ چڑاتے۔مجھے غصہ آنا لیکن معا فرشتے کی نصیحت یاد آجاتی اور میں پہلے سے بھی بلند آواز سے خدا کے فضل اور رسم کے ساتھ " کہنے لگتا اور پھر وہ نظار بدل جاتا یہاں تک کہ سب بلائیں دُور ہو گئیں اور میں منزل پر خیریت سے پہنچ گیا " • الفضل ا پریلی ۱۹۳۵ء الموعود ما تقر بر جلبت لانه ) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی نہایت مشکل اور صبر آزما حالات اور ابتلاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اللہ تعالے نے آپ کو ہر مشکل وقت میں اپنے خاص فضل اور رحم کا سہارا دیا اور خطرناک سے خطرناک وادی سے آپ اپنی جماعت کو نہایت کامیابی اور کامرانی سے بچاتے ہوئے فتح و نصرت کی نئی منازل کی طرف بڑھتے چلے گئے۔دوست تو الگ رہے اولوالعزمی کے اس پیکر کو وہ مشاہیر بھی خراج تحسین پیش کئے بغیر نہ رہ سکے جو دوستوں کے زمرہ میں شامل نہ تھے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی شدید مخالفانہ حالات میں آپ کے ثبات قدم سے متاثر ہو کر لکھتے ہیں :- مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان سے کام کر کے اپنی " جوانمردی کو ثابت کر دیا ہے۔رقامی چہرے مصنفہ خواجہ حسن نظامی) راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ مغلئی جوانمردی مت کہو کہ یہ جوانمردی تو بہادر شاہ ظفر کے ساتھ دفن ہو کہ ایک قصہ پارینہ بن گئی۔کہو تو یوں کہو کہ لاریب اس نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان سے کام کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک صاحب شکوه و عظمت اولو العزم "مرد تھا جس کے سر پر خدا کا سایہ تھا۔