سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 91
- کہ عیسائیت اور اسلام کی جنگ کا فیصلہ دنیا کے کسی بڑے شہر میں نہیں ہوگا۔نہ لنڈن میں نہ نیو یارک میں نہ ہی واشنگٹن میں بلکہ دنیا کی ایک نا معلوم چھوٹی سی بستی میں اسلام اور عیسائیت کی آخری جنگ لڑی جائے گی اور اس بستی کا نام قادیان ہے لیئے اسی دور میں ایک اور عیسائی محقق کی قادیان میں آمد کا تفصیلی ذکر الفضل ۲۷ مئی 194 ء میں ملتا ہے۔اس کے مطالعہ سے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے عیسائیت کے بارہ میں نہایت گہرے مطالعہ اور لدنی علم کا حال معلوم ہوتا ہے۔ان صاحب نے جو نجات دہندہ کی تلاش میں گھومتے ہوئے قادیان پہنچے اور ایسے وقت میں حضرت صاحب سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے کہ حضور ڈاک دیکھنے کے لئے باہر تشریف لائے تھے۔آتے ہی بڑے دکھ سے اس امر کا اظہار کیا کہ میں نے سنجات دہندہ کی تلاش میں دنیا کی خاک چھان ماری ہے مگر ابھی تک سوائے میسوع مسیح کے کوئی سنجات دہندہ میرے معیار پر پورا اترتا نظر نہیں آتا۔اگر آپ اس بارہ میں میری رہنمائی فرما سکیں تو میری خوش سختی ہوگی۔حضرت صاحب نے اس موضوع پر جو فی البدیہ تقریر فرمائی وہ آج بھی احمدی میلیغین کے لئے اور عیسائیت میں دلچسپی رکھنے والے محققین کے لئے ایک روشنی کا مینار ہے۔یہ فی البدیہ تقریر میں کو ایک زود نویں نے جو غالبا ڈاک کے نوٹس لینے کے لئے حاضر تھا اسی وقت کم و بیش انہی الفاظ میں نوٹ کر لیا اور جلد ہی اسے الفضل میں شائع کروا دیا۔افضل کے قریباً سات صفحات پر مشتمل ہے اور پڑھنے والا یوں محسوس کرتا ہے کہ مقرر نے بہت گرمی تحقیق اور غور کے بعد باقاعدہ نویش تیار کر کے اور انہیں عمدہ ترتیب دینے کے بعد یہ تقریر فرمائی ہے۔مربوط جامع و مانع دلائل اور حکمت و فلسفہ سے پُر یہ مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ہے اس تقریر کا نتیجہ بھی بہت جلد ایک شیریں ثمر کی صورت میں ظاہر ہوا اور سوال کرنے والا متلاشی حق جو خدا جانے کب سے تلاش حق میں سرگرداں تھا۔اس تقریر کے اثر سے مسلمان ہو گیا اور اسے بالآخر حضرت محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کے اکمل وجود میں وہ آخری نجات دہندہ مل گیا جس کی اُسے ایک مدت سے تلاش تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریر کا جو گہرا اور دیر پا اثر اس کے دل پر پڑا اس کا اس امر سے بھی اندازہ ہوتا له تفسیر کبیر (سورة الفيل ) ۱۹ - الفضل ۲۷ مئی ۱۹۱۶ - "