سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 373
۳۷۳ صریح ہمیں عورتوں سے مشورہ لینے سے روکتی ہے یا اس کا حکم دیتی ہے اگر حکم دیتی ہے تو ہم کہیں گے آؤ ہمارے سر آنکھوں پر میٹھو اور ہم ان سے ضرور مشورہ لیں گے۔لیکن اگر نص فریح روکتی ہے تو کہیں گے جاؤ جو چا ہو کر لو ہم تمھیں مشورہ میں شریک نہیں کر سکتے۔لیکن اگر یہ نہیں تو پھر استنباط سے کام لیں گے اور اسے نص صریح قرار نہیں دیں گے یہ استنباط غلط بھی ہو سکتا ہے اور درست بھی۔یہ نفق صریح نہیں کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو شادر ہم فی الامر میں شریک نہیں کیا اور یہ تحقیق صریح ہے کہ ان کو مشورہ نص میں شامل نہیں کرنا چاہیئے مگر میں کہہ چکا ہوں اس بارے میں جو استدلال پیش کر کے نصوص قرار دی گئی ہیں وہ در اصل نصوص نہیں ہیں۔اگر ایسی باتوں کو نصوص قرار دیا جائے تو دین میں بڑے رخنے پڑھنے کا اندیشہ ہے ؟ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹ م تاق دوران بحث آپ نے زائرین کے باپردہ احاطہ میں موجود خواتین کو صرف اس بحث میں حصہ لینے کی اجازت ہی نہ دی بلکہ ان کی مسلسل خاموشی کو توڑنے کے لئے بار بار اصرار کے ساتھ انہیں آمادہ کیا کہ وہ ضرور اپنا مافی الضمیر خود واضح کریں۔چنانچہ آپ کی حسب ذیل پر زور تحریک کے بعد عملاً ایک خاتون مکرمه استانی میمونه صوفیه صاحبہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے دورِ نو کی وہ پہلی احمدی عورت ہونے کا تار اعزاز حاصل کیا جس نے باقاعدہ مجلس شوری کو مخاطب کیا ہو۔آپ کے اس پر اثر خطاب میں سے جس کے نتیجہ میں احمدی عورت کو رسم و رواج کی کئی صدیوں میں کھویا ہوا اپنا حق تخاطب از سر نو حاصل ہوا ایک اقتباس حسب ذیل ہے :