سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 374

۳۷۴ میں زبانی طور پر پھر اس بات کو دہراتا ہوں تاکہ دوسرے بھی اس امر کے شاہد ہو جائیں کہ اگر کوئی عورت بولنا چاہے تو بول سکتی ہے۔اگر ہمارے خاندان کی کوئی عورت بولنا چاہے تو میں اُسے اجازت دیتا ہوں۔اگر کسی اور خاندان ہو تو وہ اپنی بہتری اور بھلائی سوچ ہے۔شرعی طور پر مردوں کو مخاطب کر کے کچھ کہنا منع نہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہو کر لیکچر دیتی تھیں۔جنگ صفین اور دوسرے مواقع پر انہوں نے ایسا ہی کیا۔اس وقت ایک رنگ میں عورت کی قسمت کا فیصلہ درپیش ہے۔جو چاہیں بول سکتی ہیں۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹) ہیں۔بالآخر مجلس مشاورت میں عورت کی حق نمائندگی کی بحث بہت طول پکڑ گئی اور آپ نے محسوس فرمایا کہ نمائندگان کا ایک قابل ذکر حصہ جس میں سلسلہ کے بعض جید علماء بھی شامل تھے فی الوقت ذہنی طور پر اس بات کو بھی قبول کرنے پر تیار نظر نہیں آتا کہ عورت پردہ کی پابندی کے ساتھ باقاعدہ نمائندہ کے طور پر مجلس مشاورت میں شامل ہو کر مردوں کے ساتھ بحث اور غور و فکر میں حصہ ہے۔تو آپ نے مستقل فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے وقتی طور پر حسب ذیل فیصلہ صادر فرمایا جس پر تا حال اسی طرح عمل ہو رہا ہے۔آپ نے فرمایا :- اب میں دوسری سنتجاویز کو آئندہ کے لئے ملتوی کرتا ہوں۔لیکن عورتوں کے حق نمائندگی کے متعلق یہ عارضی فیصلہ کرتا ہوں کہ جہاں جہاں لجنہ اماءاللہ قائم ہیں، وہ اپنی لجنہ جسٹرڈ کرا لیں یعنی میرے دفتر سے اپنی لجنہ کی منظورتی حاصل کرلیں۔پھر اُن کو جنہیں میری اجازت سے منظور کیا جائیگا مجلس مشاورت کا ایجنڈا بھیج دیا جایا کرے گا۔وہ لائے لکھ کر پرائیویٹ سیکرٹری کے پاس بھیج دیں۔مکیں جب ان امور کا فیصلہ کرنے لگوں گا تو ان کی آراء کو بھی مد نظر ہ سہو ہے۔جنگ جمل