سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 369
۳۶۹ پڑھتی ہوئی مصروفیات کے باعث اب یہ درس ہفتہ میں تین دن کی بجائے صرف ایک دن بروز ہفتہ ہونے لگا۔ماسوا اس کے کہ آپ قادیان سے باہر تشریف لے گئے ہوں یا مسبب بیماری درس دینا نا ممکن ہو بڑے التزام کے ساتھ آپ آخر عمر تک ہمیشہ یہ درس دیتے رہے۔قادیان کے زمانہ میں درس کا انتظام اس گھر میں ہوتا رہا جہاں راقم الحروف کا بچپن گزرا۔نماز فجر کے ساتھ ہی منتظم خواتین ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا کرتی تھیں اور جو بچے اس وقت تک سوئے ہوتے انہیں بھی اٹھا کر ان کے بستر لیٹ دیئے جاتے۔ناشتہ کے بعد حضور درس قرآن کے لئے تشریف لاتے۔مستورات کو اس درس میں شامل ہونے کا اتنا شوق تھا کہ دُور دُور کے محلوں سے جوق در جوق حاضر ہوئیں یہاں تک کہ بعض اوقات صحن میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے سیڑھیوں اور چھتوں پر بیٹھنا پڑتا۔تقسیم ملک کے بعد بھی یہ سلسلہ دارالہجرت ربوہ میں اسی طرح باقاعدگی سے جاری رہا۔اور آخری علالت تک الا ماشاء اللہ آپ باقاعدہ ہر ہفتہ درس دیتے رہے یہاں تک کہ جس دن آپ نے آخری درس دیا وہی دن آپ کی آخری طویل حلالت کا پہلا دن تھا۔طبیعت مضمحل ہونے کے باوجود آپ درس کے لئے تشریف لے آئے لیکن درس کے معا بعد ہمت نے جواب دے دیا۔اچانک بیماری کا شدید حملہ ہوا جس کے باعث تا دم واپسیں آپ صاحب فراش رہتے۔مجلس شوری میں عورتوں کی نمائندگی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی انتہائی کوشش یہی تھی کہ رفتہ رفتہ احمدی مستورات ٹھوس تربیت حاصل کر کے اس بلند مقام کو حاصل کر لیں جو آنحضو صل اللہ علیہ وسلم کی عظیم رہنمائی - تربیت اور قوت قدسیہ کے نتیجہ میں آج سے چودہ سو برس پہلے عورت کو حاصل ہوا تھا۔آپ احمدی عورت میں ایسی تعظمت کرد دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ پوری خود اعتمادی سے اپنی عصمت کی مکمل حفاظت کے ساتھ ساتھ تمام اہم ملی خدمات میں برابر کی حصہ دار بن جائے۔اور جس طرح قرون اولیٰ