سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 356
۳۵۶ اور احمدی مستورات کو ایک باقاعدہ تنظیم کی لڑی میں پرونے کی اولین محرک بھی آپ ہی تھیں یہ آپ کی خانی زندگی کا ایک لافانی کارنامہ تھا جو آپ کی یاد کو زندہ و پایندہ رکھے گا۔پر ہرگز نه میرد آنکه دلش زنده شد عشق کا مصرعہ آپ پر خوب صادق آتا ہے۔کیونکہ دین محمد کے عشق نے آپ کو بھی ان لافانی وجودوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جن کا نقش جریدہ عالم پر ہمیشہ ہمیش کے لئے ثبت ہو جاتا ہے۔لجنہ اماء اللہ کی داغ بیل اس طرح پڑی کہ احمدی مستورات کی فلاح و بہبود اور ان کی دینی ترقی کے لئے حضرت سیدہ امتہ المی کے والہانہ جذبہ سے متاثر ہوکر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود نے سیدہ موصوفہ کے ساتھ مشورہ کے بعد قادیان کی احمدی مستورات کے نام ۵ار دسمبر ۹۶انہ کو ایک کھلی چھٹی لکھی جس کا مضمون حسب ذیل تھا :- ہماری سید امین کی جو غرض و غایت ہے اس کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کی کوششوں کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح مردوں کی۔جہاں تک میرا خیال ہے عورتوں میں اس کا احساس ابھی تک پیدا نہیں ہوا کہ اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ ہماری زندگی کس طرح صرف ہونی چاہیئے جس سے ہم نبھی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر کے مرنے کے بعد اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکیں۔اگر غور کیا جائے تو اکثر عورتیں اس امر کو محسوس نہیں کریں گی کہ روز مرہ کے کاموں کے سوا کوئی اور بھی کام ان کے کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔دشمنان اسلام میں عورتوں کی کوششوں سے جو روح بچوں میں پیدا کی جاتی ہے اور جو بد گمانی اسلام کی نسبت پھیلائی جاتی ہے اس کا اگر کوئی توڑ ہو سکتا ہے تو وہ خور توں ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے اور بچوں میں قربانی کا مادہ پیدا کیا جا سکتا تو وہ بھی ماں ہی کے ذریعے سے کیا جاسکتا ہے۔نہیں علاوہ اپنی روحانی و علمی ترقی