سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 340
۳۴۰ بیاه شادی میں عورت کی منامندی کا حق بیاہ شادی کے معاملہ میں بھی عموماً مسلمانوں میں غیر اسلامی رسم و رواج راہ پاگئے تھے۔لڑکی کی رضا مندی حاصل کرنا تو ایک دُور کی بات تھی بعض اوقات لڑکیوں سے پوچھا تک نہ جاتا تھا بلکہ ماں باپ اپنی مرضی سے جہاں چاہتے اپنی اولاد کی شادیاں رچاتے تھے۔آپ نے اس دستور کو بھی توڑ دیا اور جماعت میں یہ عادت ڈالی کہ لڑکوں ہی سے نہیں لڑکیوں سے بھی باقاعدہ اجازت حاصل کی جایا کرے اور اگر کوئی لڑکی نا پسند کرے تو اس کی مرضی کے خلاف شادی نہ کی جائے۔ایسی صورتیں بھی بعض اوقات پیدا ہو جاتی ہیں کہ ماں باپ کسی ایک رشتے پر راضی ہوں لیکن لڑکی وہاں رضامند نہ ہو یا اس کے برعکس لڑکی کسی اور جگہ شادی کرنا چاہیے اور ماں باپ کو اس پر تسلی نہ ہو۔ایسی صورت میں آپ نے اسلامی تعلیم کے مطابق یہ طریق جماعت میں رانج فرمایا کہ ماں بابہ کی طرح لڑکی کو بھی یہ حق ہوگا کہ وہ خلیفہ وقت یا قضاء کی طرف رجوع کرے۔چنانچہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایسے اختلافات کا فیصلہ خلیفہ وقت کی صوابدید پہ چھوڑ دیا گیا اور خود آپ نے یا آپ کی نمائندگی میں قضاء نے دونوں طرف کے حالات پر غور کرنے کے بعد لڑکی اور خاندان کی بہبود کو یہ نظر رکھ کر فیصلہ دیا۔طلاق کی حوصد شکنی بایں ہمہ آپ ہرگز یہ پسند نہ کرتے تھے کہ اس جماعت میں طلاق کا رواج عام ہو جس میں شادی سے قبل ہر قسم کی چھان بین اور رضامندی حاصل کرنے کے متعلق الیدا معقول اور سلجھا ہوا طریق رائج ہو اور فریقین کو شادی سے قبل بشرح صدر فیصلہ کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔چنانچہ آپ نے 1920ء کی مجلس شوری میں عجبات کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے حسب ذیل الفاظ میں پیر زور نصیحت فرمائی : شادی کے وقت کوئی شخص تھیں مجبور نہیں کرتا کہ تم ضرور فلاں عورت سے شادی کہ وہ شریعیت نے تمھیں یہ حق دیا ہے کہ شادی سے قبل تم لڑکی کو دیکھ لو اور اس کے متعلق تحقیقات کر لو۔اور تم