سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 272

Por تو یہ اس روح کے یکسر منافی ثابت ہو سکتا ہے جس کے پیش نظر اہل سیاست نے یہ اصول وضع کیا تھا۔چنانچہ ہندوستان کی سیاسی صورت حال پر جب اس کا اطلاق کر کے دیکھا جائے تو اس کے نتیجہ میں سلمانوں کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ سخت حق تلفی کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔آپ نے وزیر مہند کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی کہ ہندوستان کے وہ صوبے جن میں ہندو اکثریت ہے وہاں عموما مسلمانوں کی تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ ان کو اقلیت کے نام نویشن نہیں دینے کے نتیجے میں صوبے کے سیاسی توازن پر قطعا کوئی اثر نہیں پڑتا۔لیکن اس کے برعکس مسلمانوں کی جن پانچ صوبوں میں اکثریت ہے ان میں سے دو اہم ترین اور سب سے زیادہ آبادی والے صوبوں معنی بنگال اور پنجاب میں مسلم غیر مسلم آبادی کا تناسب ایسا ہے کہ اگر مہندوؤں کو اقلیت کے اصول پر تعداد سے زیادہ نمائندگی دی جائے تو وہ اکثریت میں اور مسلمان اقلیت میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سیاسی اصول ہندوستان سے مسلمان کی سیاسی زندگی کی صنف پیٹنے پر منتج ہو سکتا ہے۔یہ مشورہ ہندوستان کے مسلمانوں کے حق میں ایک اہم بنیادی نکتہ کی حیثیت رکھتا تھا اور یہ امر آپ کی سیاسی بصیرت اور بالغ نظری کا ثبوت ہے کہ اس زمانے میں آپ نے مسلمان اکثریت کے دو صوبوں کے بارے میں جن خطرات کا اندازہ لگایا وہ بعد کے حالات نے درست ثابت کردیئے چنانچہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے دوران مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے وہی داؤ چلا گیا جس سے آپ نے متنبہ کیا تھا اور اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنے کے لئے other retros یعنی بعض دیگر عوامل کی آڑے لی گئی جس کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ اقلیتوں کو عددی قلت کے با وجود بعض دیگر اہم امور کے پیش نظر سیاسی تحفظ دیا جائے لیکن دراصل اس کا مقصد بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کے مفاد کو نقصان پہنچانا تھا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے دوسرا اہم مشورہ اس موقع پر یہ دیا گیا کہ حقوق اور فرائض کے تمام معاملات میں یوروپین اور غیر یوروپین کی تقسیم کو کلیہ ختم کر دیا جائے۔کیونکہ ہندوستان کی سیاسی بے چینی کی وجوہات میں سے یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔تیسری اہم بات جو حضرت امام جماعت احمدیہ نے مسٹر مانٹیگو کے سامنے پیش کرنی ضروری سمجھی وہ یہ تھی کہ اندرونی مذہبی اختلات سے قطع نظر حکومت برطانیہ کو یہ امر خوب ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ جماعت احمدیہ کا سیاسی مفاد کلیتہ ایسے تمام فرقوں کے ساتھ وابستہ ہے جو جماعت احمدیہ کی طرح ہی دعوئی اسلام رکھتے ہیں۔یہ بھی بہت ہی اہم اور بنیادی وضاحت تھی اور ایک