سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 268
ہاتھ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔جب میں نے یہ خطبہ پڑھا تو اس کے تیسرے ہی دن کشمیر میں خطرناک فساد برپا ہو گیا اور یوں معلوم ہوتا تھا، گویا ہماری تمام تدبیروں کا خاتمہ ہو رہا ہے اور جتنا کام اب تک کیا گیا وہ سب خراب ہو جائے گا لیکن میں سمجھتا تھا اس میں بھی اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہے چنانچہ ایک مہینہ تک سخت تاریک حالات رہنے کے بعد معا حالات بدل گئے اور یوں حالت ہوگئی کہ گویا فساد ہوا ہی نہیں تھا کشمیر میں جس وقت حالات خراب ہوئے میں نے اسی وقت دوستوں سے کہہ دیا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے میرے لئے بھی اور دوستوں کے لئے بھی۔میرے لئے ان معنوں میں کہ آیا میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں یا نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو رہا ہے اور دوستوں کے لئے اس لحاظ سے کہ ان کی ایمانی کیفیت کا اظہار ہو جاے یہ چند اصول ہمیشہ آپ کی سیاست میں مشعل راہ بنے رہے۔ان پر نظر ڈالنے سے سیاست کے مضمون کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے کہ دنیوی اصطلاح میں جسے سیاست کہا جاتا ہے اس کا اس سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں جیسے ہم احمدی اصطلاح میں سیاست کہتے دنیا کے سیاستدان اگر ان اصولوں کو اپنا کر کوئی جد و جہد کرنا چاہیں تو قدم قدم پر اُن کی راہ میں روکیں کھڑی ہو جائیں گی اور وہ دنوں کا فاصلہ سالوں میں بھی طے نہ کر سکیں گے۔مگر یہ عجیب بات ہے اور آئندہ پیش کئے جانے والے واقعات اس بات کی گواہی دیں گے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اسی سیاست کو اپنا کر دنیا کے سامنے بظاہر انہونی بات ہونی ثابت کر دکھائی کہ اگر خلوص اور حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ قرآنی تعلیم کے مطابق سیاست پر عمل کیا جائے تو کم سے کم نقصان اُٹھا کر زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں اور سالوں کا فاصلہ دونوں ہیں ملے ہو سکتا ہے۔جب بھی آپ کو سیاسی میدان میں قدم رکھنا پڑا وہ ہمیشہ وسیع مد مہبی اور یکتی تقاضوں کی بناء پہ تھا اور بالواسطہ یا بلا واسطہ اسلام کی سربلندی کے لئے ناگزیر تھا۔آپ کا سیاسی لائحہ عمل قرآنی اخلاقی تعلیم کے تابع تھا جس میں جھوٹ کو کوئی دخل نہیں تھا۔جس میں وقتی تقامنے دُوری صالح پر اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے۔آپ کے سیاسی لائحہ عمل میں عوامی جذبات کے استحصال کی بجائے فیصلہ کن امور یہ ہوا کرتے له الفضل ، جولائی ۱۹۳۶ مد