سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 267
اجازت نہیں دی۔اس بارہ میں آپ نے فرمایا :- ہمارا کام یہ ہونا چاہیئے کہ ہم پیار محبت اور استقلال کے ساتھ ان خلاف آئین تحریکوں کا مقابلہ کریں۔میں اپنی جماعت کے تمام افراد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جہاں کہیں ہوں انارکیسٹوں کی تحریک کی نگرانی رکھیں اور یہ کبھی خیال نہ کریں کہ اس کے بدلہ میں گورنمنٹ سے انہیں کیا ملے گا۔میں تو جب کسی کے منہ سے ایسی بات سنتا ہوں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری کمر ٹوٹ گئی دراصل یہ ہمارا اپنا کام ہے۔گورمنٹ نے ملک سے فتنہ و فساد کو روکنے کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی ہے اور ہم پر فتنہ و فساد کے روکنے کی ذمہ داری اللہ تعالے نے ڈالی ہے کالے دھم - قیام امن کے سلسلہ میں حکومت وقت کا ہاتھ بٹانے کا اصول کسی مخصوص حکومت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک قاعدہ کلیہ تھا اور ہر احمدی کو خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں بستا ہو اور کسی بھی حکومت میں زندگی بسر کرتا ہو، یہی تعلیم تھی اور آج بھی یہی تعلیم ہے اور کل بھی یہی تعلیم ہ رہے گی کیونکہ جماعت کا یہ موقف غیر مبدل قرآنی تعلیم کے تابع ہے جو وقتی مصالح سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔آپ کو قرآن کریم کے اصولوں کے درست ہونے اور ان پر عمل کے نتیجہ میں صحیح نتایج مترتب ہونے پر ایسا کامل یقین تھا کہ بعض اوقات بظاہر غیر متوقع نتائج ظاہر ہونے کے باوجود آپ کے اس یقین میں تزلزل واقع نہیں ہوتا تھا۔اور بالآخر وہی بات درست ثابت ہوتی جس کی توقع قرآن حکیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں کی جاسکتی تھی۔اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے ایک مثال ** دے کر فرمایا: میں نے سیاسی امور میں جب بھی دخل دیا ہے قرآن مجید کے ماتحت دیا ہے اس لئے مجھے کبھی بھی اپنی رائے بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی بسا اوقات ایسا تاریک وقت آیا کہ لوگوں نے کہا اب نہایت نازک گھڑی ہے اور بسا اوقات مجھے دوستوں نے کہا کہ اب آپ کو اپنی رائے بدل لینی چاہئیے مگر معا خدا تعالے ایسے سامان پیدا کرتا رہا کہ مجھے اپنی رائے میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے خطبہ جمعہ میں ذکر کیا تھا کہ مجھے کشمیر کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کا له الفضل ، جولائی ۱۹۳۲ ء ما