سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 264

اپنی جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اس کا مقابلہ کریں اور یہ ہیں نے اسی لئے کہا تھا کہ میرے نزدیک ملک کا امن نہایت ضروری چیز ہے اور فتنہ و فساد کو مٹانا مومنوں کا فرض ہے۔اسی طرح جب میں نے بعض سیاسی معاملات میں دخل دینا شروع کیا تو اس لئے نہیں کہ وہ سیاسی تھے بلکہ اس لئے کہ میں انہیں دین کا جزر د سمجھتا تھا۔میں نے دیکھا جب میں نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا تو جماعت کے کئی دوست بھی اس پر معترض ہوئے اور بعض دوسرے لوگ خیال کرتے تھے کہ مجھے سیاسیات سے واقفیت ہی کیا ہو سکتی ہے یا لے اور پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :- و" ** میں سیاست سمجھتا ہوں اور یہ اس لئے کہ میں سیاست کو دینی نقطے گا سے دیکھتا ہوں۔چونکہ اسلام کے اصول نہایت لیتے ہیں اس لئے جب یں اسلام کے اصول کے ماتحت کسی علم کو دیکھتا ہوں تو اس کا سمجھنا میر لئے نہایت آسان ہو جاتا ہے۔کوئی علم ہو خواہ وہ فلسفہ ہو یا علم النفس ہو یا سیاست ہو ئیں اس پر جب بھی غور کروں گا ہمیشہ صحیح نتیجہ پر پہنچوں گا۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی علم ایسا نہیں جس کے اصول کو میں نہ سمجھتا ہوں کا دوم - آپ کے نزدیک دنیا ایک جامد چیز نہیں بلکہ ایک ایسی متحرک حقیقت ہے جو مرویہ زمانہ کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اپنی شکلیں بدلتی رہتی ہے۔اس اصول کے تحت آپ یہ یقین رکھتے تھے کہ وقت کے تقاضوں کے دوش بدوش دین کے تقاضے بھی بدل سکتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ ایک وقت میں ایک چیز محض دنیا کے دائرے سے تعلق رکھتی ہو مگر دوسرے وقت میں وہی چیز دین کے دائرے میں داخل ہو جائے۔اس بار یک معرفت کے نکتے کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔میں دیکھتا ہوں کہ ابھی ہمارے دوستوں کو اس امر سے واقفیت نہیں کہ دین و دنیا کا میدان مخلوط ہے۔ایک وقت میں ایک چیز جو ساری کی ساری دنیا ہوتی ہے دوسرے وقت میں ساری کی ساری دین ہو جاتی ہے مگر پھر بھی کئی دوست ایسے ہیں جو اس لئے ان امور میں مریلا کر اد الفضل ، جولائی ۱۹۳۲ء صث - الفضل ، جولائی ۱۹۳۲ء مث