سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 263

ملت اسلامیہ کی سیاسی خدمات مقاصد اور لائحہ عمل حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالے نے دوسری غیر معمولی استعدادوں کے علاوہ حیرت انگیز سیاسی بصیرت بھی عطا فرمائی تھی۔بلا شبہ اس قابلیت کا انسان اگر سیاسی دنیا سے متعلق ہوتا تو لوح سیاست پر ایک عظیم سیاسی مرتبہ کے طور پر اپنا دائمی نقش ثبت کر جاتا لیکن آپ کی حیثیت اول اور آخر دینی تھی اور دینی ہی رہی اور سیاست میں آپ کی پچیسی ہمیشہ دین کے تابع ایک ثانوی حیثیت میں رہی۔پیشتر اس کے کہ اس مضمون کو آگے بڑھایا جائے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سیاسی نظریات، لائحہ عمل اور طرزہ فکر پر کچھ روشنی ڈال دی جائے تاکہ اس پہلو سے آپ کی شخصیت کو سمجھنے میں کسی غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور بنی نوع انسان اور ملک و ملت کی بعض نہایت اہم خدمات سرانجام دیں تو ہماری مراد ایسی سرگرمیاں نہیں جنہیں عرف عام میں سیاسی دو پہیوں کا نام دیا جاتا ہے بلکہ آپ کی پیچیپسی ایک ایسے باضابطہ اور با اصول طریق کار کے تابع تھی جس کی نوعیت عملاً سیاسی دیسیوں سے اتنی مختلف تھی کہ ایک نئی اصطلاح وضع کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔پیس ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم اس امر کا تفصیلی جائزہ لیں کہ آپ کی سیاسی ڈی پیوں سے فی الحقیقت کیا مراد ہے اور کون سے رہنما اصول ان بچیوں کی حدود اور سرخ متعین کرتے رہے۔اس جائزہ کے نتیجہ میں حسب ذیل امور نمایاں حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔اول۔پہلا امر قابل ذکر یہ ہے کہ آپ سیاست میں محض اس حد تک حصہ لیتے تھے جس حد تک کہ ضروریات دین کے لئے پچسپی لینا ضروری ہو اور اس کا کلیتہ دینی امور سے الگ کر دنیا ممکن نہ ہو۔چنانچہ تو میں خطبہ جمعہ کے دوران اس امر کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔گذشتہ سالوں میں جب کانگریس کی تحریک زوروں پر تھی اس وقت میں نے