سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 254

نهم الله سالم اور پوری ہو رہی ہیں بیسیوز رسمی (مسیح پاک آیا اور اپنے نشانات کے ساتھ آیا جو بیان کئے گئے۔پھر فرشتے آسمان سے مانگنے والی بات بھی درست نکلی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کا ایک کشف ہے کہ آپ نے خدا سے ایک لاکھ فرشتے مانگے ہیں اور خدا تعالے نے فرمایا ہے کہ پانچ ہزار کافی ہیں۔ایک لاکھ زیادہ ہیں۔چونکہ قرآن کریم میں زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار فرشتوں کا ذکر آیا ہے اس لئے اتنے ہی دیئے گئے ان سے زیادہ نہ دیئے گئے نرم یہ بات بھی سچی نکلی یا له اس کے بعد آپ نے اسلامی نقطہ نگاہ سے ملائکہ یعنی فرشتوں کی حقیقت بیان فرمائی اور قرآن و احادیث سے استنباط کرتے ہوئے حقیقت ملائکہ پر چودہ نکات بیان کئے۔چودھواں نکتہ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- چودھویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ مختلف صفات الہیہ کے منظر ہوتے ہیں۔بعض کسی ایک طاقت کے اور بعض ایک سے زیادہ طاقتوں کے منظر ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالئے فرماتا ہے :- الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَكَةِ رُسُلًا أولِي اجْنِحَةٍ مَّثْنى وَثُلَثَ وَرُبَعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِير - ( ۳۵-۲) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو اور جو فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے جن میں سے بعض دو بعض تین اور بعض چار صفات کے مظہر ہوتے ہیں۔اور اللہ ان سے زیادتی بھی کرتا ہے جتنی چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مختلف فرشتے مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں۔اور کوئی تھوڑی صفات کے اور کوئی زیادہ صفات کے اور یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس زمانہ کے لئے جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی استعداد کے فرشتے بھیجے جاتے ہیں ان فرشتوں کو لوگوں کے لے ملائکہ اللہ صا تا ۱۴)