سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 248
۲۴۸ نہیں۔بلکہ اس غرض کے عین مطابق ہے جس غرض کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے یا اے صوفیوں اور بزرگوں کے مختلف لطیفے بیان کر کے آپ نے اس مسئلے پر صوفیاء اور بزرگان اُمت کے اقوال کا صحیح مفہوم پیش فرمایا۔تقدیر اور تدبیر کے درمیان توازن پر روشنی ڈالی اور تقدیر کی مختلف اقسام بیان کیں اور اس سلسلہ میں بہت سے ایسے امور بیان کئے جو اگرچہ قرآن کریم سے استنباط کئے گئے لیکن گذشتہ علماء اور محققین کی ان نکات تک رسائی نہ ہو سکی تھی۔تقدیر خاص کو آپ نے دو حصوں میں منقسم فرمایا ایک ایسی تقدیر خاص جس کے ساتھ اسباب بھی ظاہر ہوتے ہیں اور ایک ایسی تقدیر خاص جس کے ساتھ یا تو اسباب ظاہری نہیں ہوتے یا سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- اس تقدیر خاص کے علاوہ جس کے ظہور کے لئے اللہ تعالے اسباب پیدا فرماتا ہے۔ایک تقدیر وہ بھی ہے جو بلا اسباب کے ظاہر ہوتی ہے۔اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔اوّل وہ تقدیر جس کا ظہور در حقیقت بلا اسباب کے ہی ہوتا ہے مگر کسی خاص حکمت کے ماتحت اللہ تعالے اس کے ساتھ اسباب کو بھی شامل کہ دنیا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ حضرت صاحب کو الہام ہوا کہ احمدیوں کو بالعموم طاعون نہیں ہو گی۔مگر اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی کہا کہ جرابیں پہنیں شام کے بعد باہر نہ نکلیں اور کونین استعمال کریں یہ اسباب تھے مگر حقیقی بات یہی ہے کہ یہ تقدیر بغیر اسباب کے تھی کیونکہ جرابیں اور دستانے زیادہ پہننے والے تو اور لوگ بھی تھے پھر زیادہ دوائیاں استعمال کرنے والے بھی اور لوگ تھے۔احمدیوں کے پاس کوئی زیادہ اسباب نہ تھے کہ وہ طاعون سے ان کی وجہ سے محفوظ رہتے۔در اصل جرمز کو حکم تھا کہ احمدیوں کے جسم میں مت داخل ہو۔مگر ساتھ ہی احمدیوں کو بھی حکم تھا کہ اسباب کو اختیار کرو۔وجہ یہ کہ یہ حکم دشمن کے سامنے بھی جانا تھا اور ایمان اور عدم ایمان میں فرق نہ رہ جاتا۔اگر بغیر ان اسباب کے احمدی طاعون سے محفوظ رہتے یا اگر لے تقدیر الہی ضلالت !!!