سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 236
۲۳۶ شنگرا در مرکز احمدیت کی غیر معمولی روحانی فضا کے تذکروں سے متاثر ہو کر تشریف لائے ہوئے تھے آپ نے نہایت سادہ اور سلیس زبان میں عرفان الہی کے مضمون کو بیان کرنا شروع کیا۔پہلے مضمون کا تعارف کرایا۔عرفان الہی کے معانی سمجھائے۔علم و عرفان کی اصطلاحوں میں مشرق کر کے دکھایا۔یہ بتا یا کہ خدا تعالے علیم تو ہے عارف نہیں۔بلکہ خدا کے متعلق عرفان کا لفظ اطلاق پاہی نہیں سکتا۔عرفان کے لئے ضروری ہے کہ ایسی چیز کی جستجو کی جائے جس کا پہلے علم نہ ہو۔اور انسان حقیقت کی تلاش میں ظاہر سے باطن کی طرف حرکت کرے۔چونکہ اللہ تعالے کے لئے ظاہر اور باطن برابر ہے وہ عالم الغیب والشہادت ہے اس لئے عرفان کا لفظ صرف انسان کے تعلق میں بولا جا سکتا ہے۔غرضیکہ مختلف رنگ میں اس مضمون کو پھیر پھیر کر بیان فرمایا اور حاضرین پر یہ حقیقت بڑے خوبصورت انداز میں واضح فرمائی کہ کسی قطب یا غوث یا ولی کی ایک نظر سے ایک ہی لمحہ میں کبھی عرفان اللی نصیب نہیں ہو سکتا۔پھر آپ نے یہ امر ذہن نشین کرایا کہ عرفان الهی مسلسل محنت جستجو اور کوشش کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جس کے ساتھ دُعا بھی انتہائی ضروری ہے۔پھر مضمون کا رخ بدلتے ہوئے یہ نکتہ ذہن نشین کرایا۔کہ جو لوگ عمل اور کوشش کے بغیر صرف منہ سے دُعا مانگ کر عرفانی انہی حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کو کبھی کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔آپ نے فرمایا دعا عمل کے بغیر کچھ نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔ہاں دو صورت میں ایسی ہوتی ہیں کہ بغیر عمل کے دُعا فائدہ دیتی ہے۔ایک تو یہ کہ خدا تعالے کی طرف سے انسان کو حکم دے دیا جائے کہ فلاں کام کے لئے دعا کر عمل نہ کر یعنی ظاہری سامان کو اس کام کے لئے ستعمال نہ کر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا گیا تھا کہ طاعون سے بچنے کے لئے وہ دعا پر زور دیں اور ٹیکا نہ لگائیں اور نہ آپ کی جماعت ٹیکا لگوائے۔۔۔۔۔۔تو با وجود اس کے کہ یہ ٹیکا طاعون کا علاج تھا اور ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے لگانے سے منع کر دیا اور دُعا کا حکم دیا۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی جماعت ان ٹیکا لگانے والوں کی نسبت بہت کم اس مرض کا شکار ہوئی۔دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ایسا موقع ہو کہ انسان عمل کو ہی نہ سکے