سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 229
۲۲۹ انفلوئنزا کی عالمی دباء اور حضور پر اس کا اثر شاور میں جنگ عظیم کے خاتمہ پر جو انفلوئنزا کی ہولناک وبار پھوٹی اُس کا رُخ مشرق سے مغرب کی جانب تھا گویا کہ جنگ کی زہرہ گداز تباہی تو مغرب سے مشرق کی سمت چلی تھی۔انفلوئنزا کی وباء مشرق سے مغرب کی طرف بڑھی اور بر صغیر کے مشرقی کنارے سے داخل ہوتے ہوئے رفتہ رفتہ تمام ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کی ہولناک تباہی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ہندوستان ہی میں اس کے نتیجہ میں 40 لاکھ اموات ہوئیں۔اس خوفناک و بار کا جور و عمل حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر ہوا وہ یہ نہیں تھا کہ جماعت کو ایسی جنگوں پر جانے سے روکتے جہاں وباء کا شدید حملہ تھا بلکہ اس کے برعکس حضرت صاحب نے تمام جماعت کو تاکید فرمائی کہ ہر صحت مند آدمی بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے نکل کھڑا ہو اور جس حد تک بھی بیماروں کی خدمت کی توفیق ملے سر انجام دی جائے۔چنانچہ انفرادی طور پر سی نہیں جماعتی تنظیم کے ماتحت بھی جماعت احمدیہ کے طبیب اور دوسرے صحت مند نوجوان بمیاروں کی خدمت پر کمر بستہ ہو گئے خصوصاً قادیان کے ماحول میں جماعت کو بھاری خدمت کا موقع ملا۔وباؤں کے ایام میں جبکہ دوسرے ڈاکٹر زرو جواہر سے اپنی جھولیاں بھر رہے تھے احمدی اطباء کو ان کے امام کا یہ حکم تھا کہ وہ خود بیماروں تک پہنچیں اور ان کا مفت علاج کریں چنانچہ احمدی اطباء نے اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایسا ہی کیا اور اطباء کے ساتھ مخلص نوجوانوں کی ایک جماعت معاون کے طور پر شامل ہو گئی۔ہمارے چچا جان حضرت صاحب کے چھوٹے بھائی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو اس وباء کے دوران بیماروں کی خدمت کی بہت توفیق ملی۔یہاں تک کہ بالآخر خود ان پر بھی اس بیماری کا حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں مجبورا آپ کو علاج کے لئے قادیان واپس آنا پڑا۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر بھی اس بیماری کا شدید حملہ ہوا۔اور اس کے نتیجہ میں کمزوری اتنی بڑھ گئی کہ بار بار دل ڈوبنے کی شکایت پیدا ہو گئی اس وقت اس