سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 208

۲۰۸ طنز ہوتی ہے۔مثلاً خانصاحب کا یہ کہنا کہ خدا کا شکر ہے 9 مہینہ کے بعد چند روزہ ہوتے ہیں حافظ صاحب نے تیار کر کے دی ہے یہ ایک طنز کا پہلو ہے۔خواہ خانصاحب کا یہ منشاء نہ ہو۔اس میں کیا شک ہے کہ اگر حافظ صاحب نے تو جہینہ میں بھی تیار کر دی تو بڑا کا کیا یہ ایک علمی کام ہے۔اس میں تحقیقات کرنی ہوتی ہے۔اگر حافظ صاحب ایک دن میں تیار کر لاتے تو مجھے ان کے علم پر شک پڑھاتا ہے یہ تو صرف چند مثالیں ہیں لیکن وہ دوست جنہیں سالہا سال تجلس مشاورت میں شامل ہونے کی توفیق ملی ہے وہ جانتے ہیں کہ کسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس ادارہ میں اسلامی روح اور اسلامی طرز فکر و تدرتبہ پیدا کرنے کی مسلسل جد و جہد کی ہے۔حضور جب بعض ایسی غلطیوں کو دیکھتے جو کام کے اصول اور بنیادی امور سے تعلق رکھتی ہوں تو بعض دفعہ بحث کے دوران ہی جماعت کو مختلف رنگ میں نصیحت فرماتے۔جن میں قرآن و حدیث سے استنباط کے علاوہ تاریخ اسلام سے دل پر اثر کرنے والے واقعات بھی بیان کرتے اور کبھی معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر اپنے آخری خطاب میں مزید تفصیل کے ساتھ اس معاملہ پر روشنی ڈالتے۔پچھوٹی موٹی یا روز مرہ کی معمولی غلطیوں اور کوتاہیوں کے موقعہ پر بسا اوقات آپ کبھی نرمی سے ایک آدھ فقرہ میں غلطی کرنے والوں کو سمجھا دیتے۔کبھی کوئی لطیفہ سنا کر فضاء کو خوشگوار بناتے ہوئے آگے گزر جائے۔عموما یہ طریق اس وقت اختیار فرماتے جب کوئی مقرر بلا وجہ وقت کو ضائع کرنے کی کوشش کرتا یا غیر مناسب تکرار کے ذریعہ حاضرین مجلس کو طول کر رہا ہوتا۔اس وقت آپ جس لطیف انداز میں اس کی غلطی کی نشاندہی کرتے اس سے سامعین کی ساری کوفت دُور ہو جاتی۔تھکے ہوئے اعصاب تازہ دم ہو جاتے، اور سوتے ہوئے دماغ اچانک بیدار ہو کر ہمہ تن گوش ہو جاتے۔اس طریق سے نہ صرف غلط عادتوں کی اصلاح ہوتی بلکہ وقتاً فوقتاً تکان بھی دُور ہوتی رہتی اور معاملات میں پچپی قائم رہتی۔کبھی کبھی بعض دوستوں کے نامناسب انداز اختیار کرنے پر آپ ناراض بھی ہوتے اور بعض اشخاص کو تنبیہ بھی فرماتے۔ایسے مواقع عموما اس وقت پیدا ہوتے جب کسی شخص میں انانیت کی بو دیکھتے یا کسی کی گفتگو میں تکبر اور تمسخر کا رنگ پایا جاتا ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ ۶ ص ۳۳