سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 185

اے یہ نہیں کہ دوٹ لئے جائیں اور ان پر فیصلہ کیا جائے بلکہ جیسا اسلامی طریق ہے کہ مختلف خیالات معلوم کئے جائیں اور مختلف تجاویز کے پہلو معلوم ہوں تاکہ ان پر جو مفید باتیں معلوم ہوں وہ اختیار کرلیں۔اس زمانہ کے لحاظ سے یہ خیال پیدا ہونا کہ کیوں رائے نہ لیں اور ان فیصلہ ہو۔مگر ہمارے لئے دین نے یہی رکھا ہے کہ ایسا ہونا ذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ مشورہ لو مگر جب ارادہ کر لو تو پھر اس بات کو کر لو۔یہ نہ ہو کہ لوگ کیا کہیں گے۔اور اسلام میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔جب ایران پر حملہ کیا گیا تھا تو دشمن نے ایک پل کو توڑ دیا اور بہت سے مسلمان مارے گئے تھے۔سعد بن ابی مقاص نے لکھا کہ مسلمان تباہ ہو جائیں گے۔اگر جلد فوج نہ آئے گی تو عرب میں دشمن گھس آئیں گے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رائے طلب کی تو سب نے کہا خلیفہ کو خود جانا چاہیئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اُن کی خاموشی پر خیال آیا اور پوچھا آپ کیوں چُپ ہیں ؟ کیا آپ اس رائے کے خلاف ہیں انہوں نے کہا کہ ہاں میں خلاف ہوں۔پوچھا کیوں تو کہا اس لئے کہ خلیفہ کو جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیئے اس کا کام یہ ہے کہ لڑنے والوں کو مدد دے۔جو قوم ساری طاقت خرچ کر دے اور جسے مدد دینے کے لئے کوئی نہ رہے تو وہ تباہ ہو جاتی ہے۔اگر آپ کے جاننے پر شکست ہو گئی تو پھر مسلمان کہیں نہ ٹھر سکیں گے۔اور عرب پر دشمنوں کا قبضہ ہو جائے گا۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ خنہ نہ گئے اور انہی کی بات مانی گئی۔تو مشورہ کی غرض دوسٹ لینے نہیں بلکہ مفید تجاویز معلوم کرنا ہے۔پھر چاہے تھوڑے لوگوں کی اور چاہے ایک ہی کی بات مانی جائے۔پیس صحابہ کا یہ طریق تھا اور یہی قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور عارف کے لئے یہ کافی ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ مشت ۱۳