سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 180
۱۸۰ یہ تین طریقے تجھے مشورہ لینے کے اور یہ تینوں اپنے اپنے رنگ میں بہت مفید ہیں۔میں بھی ان طریق سے مشورہ لیتا ہوں یہ ہے آداب مشورہ مشورہ کے لئے ہدایات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- ہمارے مشورے تبھی مفید ہو سکتے ہیں کہ خدا پر نظر رکھیں۔اس لئے پہلی نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ ہر شخص خدا کی طرف توجہ کرے اور دعا کرے کہ الہی ! میں تیرے لئے آیا ہوں۔تو میری راہ نمائی کی۔کسی معاملہ میں میری نظر ذاتیات کی طرف نہ پڑے۔نہ ایسا ہو کہ کوئی رائے غلط دُوں۔اور اس پر زور دُوں کہ مانی جائے اور اس سے دین کو نقصان پہنچے۔نہ ایسا ہو کہ کوئی ایسی رائے دے جو ہو تو غلط مگر اس کی چکنی باتوں یا طلاقت لسانی سے میں اس سے متفق ہو جاؤں۔میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ نہ ایسا ہو کہ مجھ میں نفسانیت آجائے۔یا اپنی شہرت و عزت کا خیال پیدا ہو یا یہ کہ بڑائی کا خیال پیدا ہو یا یہ کہ بڑائی کا خیال آجائے۔نہ ایسا ہو کہ میری رائے غلط اور مضر ہو۔نہ یہ ہو کہ میں کسی کی غلط رائے کی تائید کروں۔میری نیت درست رہے۔میری رائے درست ہو اور تیری منشاء کے ماتحت ہو۔یہ دعا ہر دوست کو کر لینی چاہئیے اور ہمیشہ کرنی چاہیے۔جب بھی ہماری جماعت مشورہ کرنے لگے۔صرف آج کے لئے ہی نہیں۔۔یہ کہ پہلی نصیحت دعا کے متعلق ہے مگر کوئی دعا قبولیت کا جا نہیں پہنتی جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔مثلاً انسان دعا تو کرے کہ اُسے خدمت دین کی توفیق ملے۔مگر عملاً ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اُسے کیا توفیق ملے گی۔تو دعا ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ منت