سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 170

16+ بڑے صحابہ پر ایسے لوگوں کو بھی امیر مقرر فرمایا کرتے تھے جو بظاہر چھوٹے نظر آتے تھے۔مثلاً اُسامہ کے ماتحت ابو بکر و عمر جیسوں کو کر دیا۔اس میں حکمت یہی تھی کہ لوگوں میں ایک دوسرے کی اطاعت کا مادہ پیدا ہو۔ایک اطاعت تو ایک شخص کی ذات کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن ایک اور اطاعت ہے جو خالصہ اللہ ہوتی ہے۔جب ایک انسان خدا کے نبی یا خدا کے مقررہ کردہ خلیفہ یا کسی خلیفہ کے مقرر کئے ہوئے شخص کی اطاعت کرتا ہے تو دراصل وہی اطاعت خالص اور خدا کے لئے ہوتی ہے یا لے اور فرمایا :- میرے نزدیک امارت کا سوال ساری جماعتوں کے لئے محتاج توجہ ہے اور میرا ارادہ ہے کہ ساری جماعتوں کے لئے امیر منظرہ کئے جائیں اور مد میں اور اس میں بعض مقامات میرے مد نظر ہیں۔جن میں ابتداء امیر مقرر کئے جائیں گے۔بعض لوگوں نے مقامی امارت کو سمجھا نہیں اس لئے لیکن اس کے متعلق مختصراً بیان کرتا ہوں۔چونکہ قادیان مرکز ہے۔تو بعض لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ خلیفہ کے بعد قادیان کی جماعت کا امیر بھی خلیفہ ہی ہو جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ چلو ان سے بعض معاملات ان کی خلافت کی حیثیت میں حل کرائیں۔سو یا د رکھنا چاہیئے کہ مقامی امارت کے ساتھ صرف مقامی امور وابستہ ہوتے ہیں۔جیسے مثلاً جماعت سیالکوٹ کا امیر ہو تو اس کے متعلق سیالکوٹ کے ہی معاملات ہونگے پیر د نجات کے نہیں ہوں گے۔اسی طرح قادیان کے متعلق بھی ہے۔در نہ مرکزی معاملات جن کا تعلق خلافت سے ہوگا وہ بہر حال خلیفہ سے ہی متعلق ہوں گے۔خواہ خلیفہ کہیں ہو اور جو ناظروں یا صد آئین احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کو وہی انجام دیں گے۔تعلیم کے متعلق له الفضل ۱۸ / فروری شاه منته