سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 169

149 چاہیئے کہ ذاتی فوائد کو جماعت کے لئے قربان کر دیں۔یہی گڑہتے ہیں سے دشمن پر فتح پا سکتے ہیں۔تو امراء کے تقرر سے انجمن ٹوٹتی نہیں بلکہ یہ فائدہ ہے کہ پارٹی فیلنگ ( Feelina) پیدا نہیں ہوگی۔اور کثرت رائے صحیح کثرت رائے ہوگی۔انجمنوں میں پارٹی فیلنگ پیدا کی جاتی ہے ممبروں سے کئی کئی وعدے خطابوں عہدوں کے دے کر ان کی رائے لی جاتی ہے۔اصل میں اسلام ہی کی جمہوریت ہے جو امراء کے ذریعہ قائم ہوتی ہے۔اسی طرح حضرت صاحب کے قواعد بنانے خلاف نہیں جبکہ صدر انجمین احمدیہ کے قواعد ہوتے خلافت کو مانا اور بعیت ہوئی کیا ہے اسلام نے امارت کا جو تصور قائم کیا ہے ، حضور اس سے بدرجہ کمال واقف تھے۔اور اس کے ہر پہلو پر آپ کی گہری نظر تھی۔چنانچہ زیر نظر مجلس مشاورت سے قبل بھی آپ نے متعدد بار اس موضوع پر جماعت کو بڑی قابل قدر نصائح فرمائیں اور منصب امارت کو اچھی طرح احباب جماعت کے ذہنوں میں جاگزین کرنے کی کوشش فرمائی۔ذیل میں آپ کے اس خطاب سے دو اقتباس پیش کئے جا رہے ہیں جو آپ نے ۱۲ فروری 1913ء کو لاہور روانگی سے قبل اہل قادیان سے فرمایا۔آپ فرماتے ہیں:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے باہر کسی مقام پر تشریف ے جاتے تھے تو مدینے میں اپنے بعد کسی کو امیر مقرر فرما دیتے تھے میں کے سپرد مقامی انتظام ہوتا تھا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ میں یہ بھی تھا کہ آپ ہمیشہ بدل بدل کر آدمی منظر کیا کرتے تھے اور اس طریق میں بہت سے فوائد ہیں۔اول تو یہ کہ اگر ہمیشہ ایک ہی شخص کو مقرر کیا جائے تو لوگ اس کے متعلق عجیب عجیب خیال اور قیاس خود بخود کر لیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جب بدل بدل کر امیر مقرر کئے جاتے ہیں تو ہر ایک میں فرما نزاری کی عادت پیدا ہوتی ہے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض بڑے ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ مته تا حدات )