سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 167
142 اور اطاعت گزار خدام تھے جو سوائے سلسلہ کی بہبود اور فلاح کے اور کوئی جذبہ نہ رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود آراء میں دیانتدارانہ اختلاف اس قدر تھا اور ایسے دلائل دونوں طرف سے پیش کئے جارہے تھے کہ بظاہر دونوں گروہوں کے مابین اتفاق رائے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔لیکن حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے دونوں آرا ء شنکر اس عمدگی اور حکمت سے تمام صورت حال کا تجزیہ کیا کہ تمام حاضرین مطمئن اور متفق ہو گئے کہ بعض ضروری احتیاطوں اور شرائط اور استثناء کا لحاظ رکھتے ہوئے جماعت کی مختلف شاخوں میں امیر مقرر کئے جائیں۔چنانچہ امیر کے فرائض اور اختیارات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ ایسے الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :- امارت کے فرائض در اصل امارت کے فرائض کو لوگوں نے نہیں سمجھا جو میں نے بتائے تھے۔گو اس تفصیل سے احادیث میں نہیں ملتے کیونکہ تیرہ سو سال کی بات ہے۔مگر ان کا پتہ ضرور چلتا ہے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو مشورہ سے کام نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں اور میں نے امیر کے لئے رکھا تھا۔کہ علی العموم کثرت رائے سے فیصلہ کریں۔لیکن میں بھی یہی کرتا ہوں کوئی ایک آدھ ہی معاملہ سال میں ہوتا ہوگا جس میں میں کہوں کہ میری یہ رائے ہے اس کے مطابق عمل ہو ورنہ عموما کثرت رائے سے جو تجویز ہو اسی کو عمل میں لایا جاتا ہے۔دیکھو اُحد کے دن رسولِ کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں پسند نہیں کرتا کہ باہر جا کر مقابلہ کیا۔جائے۔مگر سب نے کہا کہ لوگ ہمیں بزدل کہیں گے۔جب ہم کفر میں بزدل نہیں ہوئے تو اب کیوں کہلائیں۔تاریخ میں لکھا ہے کہ عبد الله بن ابی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مشورہ نہیں لیا تھا مگر اس دن اس کو بلایا اور پوچھا کہ وہ کیا کہتا ہے۔شاید وہی کہے کہ یا ہر نہ جائیں۔اور لوگوں میں اس بات کی تحریک ہو۔مگر اس نے بھی