سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 166

144 کو بھی شکوہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رکا نہیں پیدا کی جا رہی ہیں مگر مجھ پر یہ اللہ تعالے کی طرف سے ایسا فرض ہے جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کر سکتا اور دراصل خلافت کے معنی ہی یہ ہیں یا سے نظامی امارت صدر انجمن احمدیہ کے نظام کی تکمیل کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت احمدیہ کی متفرق شاخوں کی از سیر تو تنظیم کی طرف بھی تو قبر دی اور ہر جگہ باقاعدہ امارت کا نظام رائج کرنے کے علاوہ صدر انجمین احمدیہ کے شعبہ جات کا ایک مقامی نمائندہ بھی مقرر کرنے کا انتظام فرمایا۔امیر کی اصطلاح اسلام میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔جس کے معنے ایک لحاظ سے امیر مقرر کرنے والے کے نائب کے ہوتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ کی اطاعت پر بڑا نہ ور دیا ہے۔امارت کا نظام قائم کرنے میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تمام رہنمائی آنحضور صلے اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہی سے حاصل کی اور اطاعت امیر کی روح کو نظام جماعت میں بڑی کوشش اور محنت سے جاری و ساری کیا۔ابتداء میں جب آپ نے باقاعدہ نظام امارت قائم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس ارادہ کا اظہار مجلس مشاورت میں کیا اور مشورہ مانگا تو اس بارہ میں بڑی دلچسپ آراء کا اظہار کیا گیا۔عملاً مشورہ دینے والے دو گروہوں میں بٹ گئے۔جو اس شدت سے ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے تھے کہ گویا امیر بنانے کے حق میں جو لوگ تھے ان کے نزدیک امیر مقرر نہ ہونے کی صورت میں ایمان جاتا رہے گا۔اور جو مخالف تھے ان کے نزدیک نظام امارت کے مقام سے اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ یہ نظام خلافت کا متوازی نظام بن کر جماعت کو تباہ کر دے گا۔دونوں طرف کے قائلین نہایت مخلص اور سلسلہ کے اعلیٰ درجہ کے وفادار الفضل ۲۷ ر ا پریل ۱۹۳۶ مگ